پنجاب حکومت نے نوزائیدہ یونٹس کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار تیار کرنے کا فیصلہ کیا

پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کی نرسری اور نیونیٹالوجی یونٹس کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کا فیصلہ کیا اور تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کر دیا۔

پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے نرسری اور نیونیٹالوجی یونٹس میں نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال بہتر بنانے اور حفاظتی اقدامات مضبوط کرنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا۔

پنجاب حکومت نے نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال میں بہتری اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی نرسری اور نیونیٹالوجی یونٹس کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جس کا کنوینر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق مقرر کیے گئے ہیں۔ اس گروپ کو طبی اور انتظامی دونوں سطحوں پر یونٹس کے معیارات مرتب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ داخلے اور ہسپتال سے چھوٹنے کے کلینی کل معیار واضح کیے جا سکیں۔

گروپ کو ہنگامی صورتحال میں نوزائیدہ بچوں کی محفوظ نکلوانے اور منتقلی کے لیے فائر سیفٹی، فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی ایواکیو ایشن کے مفصل ایس او پیز تیار کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مزید برآں یونٹس میں ممکنہ فائر خطرات، برقی لوڈ کے خطرات اور ایمرجنسی ایواکیو ایشن کی ترتیب کا جائزہ لیا جائے گا۔

ڈاکٹروں، نرسز اور سپورٹ اسٹاف کے لیے تربیتی ماڈلز بنائے جائیں گے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں نوزائیدہ بچوں کی محفوظ منتقلی اور اخراج کو یقینی بنایا جا سکے۔ نئے طریقہ کار کی تعمیل کی نگرانی کے لیے چیک لسٹس اور آڈٹ ٹولز بھی تیار کیے جائیں گے۔

ورکنگ گروپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سفارشات مجاز اتھارٹی کو 7 دن کے اندر پیش کرے۔ اس اقدام کا مقصد نوزائیدہ بچوں کے علاج کے معیار میں یکسانیت اور ہنگامی صورتحال میں حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516