پنجاب نے پرانی اور ناقابلِ استعمال گاڑیاں خردہ کرنے کی منظوری دے دی

پنجاب کے گورنر نے موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت ریجسٹریشن ختم یا فٹنس/امیسیشن سرٹیفیکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیاں خردہ قرار دی جائیں گی۔

پنجاب کے گورنر نے 21 اگست 2026 کو موٹر وہیکلز آرڈیننس میں تیسری بڑی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت صوبے میں ریجسٹری ختم شدہ یا فٹنس اور ایمیسیشن سرٹیفیکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیاں رسمی طور پر خردہ قرار دے کر مخصوص مراکز میں بھیجی جائیں گی۔

صوبائی حکومت کی نئی ترمیم کے مطابق وہ گاڑیاں جن کی رجسٹریشن منسوخ یا واپس لے لی گئی ہو، انہیں ناقابلِ استعمال تصور کیا جائے گا اور انہیں خردہ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح فٹنس سرٹیفیکیٹ یا اخراج (امیسیشن) سرٹیفیکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیاں بھی اس فہرست میں آئیں گی۔

ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حادثات، آگ یا قدرتی آفات میں تباہ ہونے والی گاڑیاں بھی اسکریپ قرار دی جا سکیں گی، اور گاڑیوں کے مالکان اپنی مرضی سے اپنی ناقابلِ استعمال گاڑیاں اس مقصد کے لیے جمع کرا سکیں گے۔

خردہ کاری کے عمل کے لیے سرکاری اور نجی شعبے دونوں میں مخصوص خردہ کاری مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں پہلے قابلِ استعمال پرزے نکالے جائیں گے اور باقی ماندہ مواد ری سائیکل کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت اس عمل کی تفصیلی ضوابط ترتیب دے گی تاکہ کارروائی شفاف اور ماحولیاتی قوانین کے مطابق ہو۔

پنجاب حکام نے بتایا ہے کہ اس نظام کا بنیادی مقصد دھواں اور آلودگی میں کمی لانا اور صاف ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ گورنر کی منظوری کے بعد یہ قانونی ترمیم فوری طور پر نافذالعمل ہو جائے گی اور ریجسٹریشن منسوخ شدہ گاڑیاں اب عمرِ اختتامی یا ‘اینڈ آف لائف’ حیثیت کی حامل تصور ہوں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519