اسٹار لنک نے 13,000 سیٹلائٹ خلا میں بھیجے , پوتن نے ایلون مسک کو ’حقیقی جینئس‘ قرار دے دیا

ہ خبر صرف پوتن کی جانب سے ایلون مسک کی تعریف نہیں؛ اس کے پیچھے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی عالمی دوڑ، خلائی انفرااسٹرکچر پر خودمختاری اور جدید جنگوں میں مواصلاتی نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت بھی ہے۔ رائٹرز اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق، روسی صدر نے 28 اکتوبر کو ماسکو میں روس-افریقہ سربراہی اجلاس کے موقع پر روس کے اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک Rassvet کا ذکر کرتے ہوئے مسک کی کامیابیوں کو سراہا۔

پوتن نے ایلون مسک کو ’حقیقی جینئس‘ قرار دے دیا، روس کا اسٹارلنک سے مقابلے کا مشن“

ماسکو، (ویب ڈیسک) 29 اکتوبر 2026 — روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک اسٹارلنک کی کامیابی پر ’’حقیقی جینئس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام راسویت کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ روس-افریقہ سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ ماسکو امریکی شراکت داروں، بشمول مسک، کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ خلا میں سیٹلائٹس ایک دوسرے کے نظام میں مداخلت نہ کریں۔ تاہم، اس بیان سے کسی نئے تجارتی معاہدے یا براہِ راست شراکت داری کی تصدیق نہیں ہوتی۔ کمپنی کے مطابق، سٹارلنک اپنے تقریباً 13,000 سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے۔ اس کے برعکس، آن لائن سیٹلائٹ ٹریکرز کے مطابق، اس وقت مدار میں ‘راسویت’ سیٹلائٹس کی تعداد صرف دو درجن کے قریب ہے۔ ہم اور ہمارے امریکی شراکت دار اس باہمی تعلق کی قدر کرتے ہیں، اور تمام تر سیاسی سوالات کے باوجود، ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

اسٹارلنک بمقابلہ راسویٹ: تعداد اور صلاحیت کا فرق

اسپیس ایکس کا اسٹارلنک ہزاروں کم مدار والے سیٹلائٹس کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں براڈبینڈ انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، روسی نظام راسویٹ ابھی ابتدائی تعیناتی کے مرحلے میں ہے۔ سیٹلائٹ ٹریکرز کے مطابق اکتوبر 2026 کے آخر میں راسویٹ کے تقریباً 30 سے زائد سیٹلائٹس مدار میں موجود تھے، اگرچہ لانچ کیے گئے اور فعال سیٹلائٹس کی تعداد میں فرق ہو سکتا ہے۔

تکنیکی پہلو: کم مدار، کم تاخیر، بڑی سرمایہ کاری

کم زمینی مدار (لیو) میں موجود سیٹلائٹس زمین کے نسبتاً قریب ہوتے ہیں، اس لیے روایتی جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس کے مقابلے میں سگنل کی تاخیر کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر مسلسل کوریج کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس، زمینی گیٹ وے اسٹیشنز، صارف ٹرمینلز، مناسب اسپیکٹرم اور مسلسل لانچنگ درکار ہوتی ہے۔ محض سیٹلائٹس کی تعداد ہی کامیابی نہیں؛ نیٹ ورک کی گنجائش، قابلِ اعتماد رابطہ، لاگت اور جغرافیائی کوریج بھی اہم ہیں۔

جنگ، ڈیجیٹل خودمختاری اور خلائی نظم

یوکرین جنگ نے دکھایا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ فوجی مواصلات، ڈرون آپریشنز اور زمینی رسد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی لیے روس کے لیے اپنا نیٹ ورک بنانا صرف تجارتی مقابلہ نہیں بلکہ مواصلاتی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کا معاملہ بھی ہے۔ خلا میں سیٹلائٹس کے درمیان مداخلت سے بچنے کے لیے رابطہ ضروری ہے، مگر پوتن کے بیان کو مسک کے ساتھ کسی ثابت شدہ مشترکہ منصوبے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356