راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کا نظام ادھورا

ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی نظام ادھورے ہیں؛ دھواں الارمز غائب اور بعض ہنگامی راستے بند ہیں، حکام نے فوری ایکشن کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے المناک واقعے کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری ہسپتال — بینظیر بھٹو ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال — میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات ابھی مکمل نہیں ہوئے؛ دھواں الارمز غائب اور بعض جگہوں پر ہنگامی راستے بند ہیں، جبکہ ہائیڈرینٹس نصب ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ راولپنڈی کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ضروری فائر پروٹیکشن اقدامات مکمل طور پر نافذ نہیں کیے گئے۔ بینظیر بھٹو ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال میں کچھ ضروری عناصر جیسے دھواں کا پتہ لگانے والے الارم اب تک موجود نہیں ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ متعلقہ ہسپتالوں میں ہائیڈرینٹس نصب کیے جا چکے ہیں، لیکن بعض جگہوں پر ہنگامی راستے رکاوٹوں کی وجہ سے بند یا محدود ہیں جس سے ایمرجنسی کے دوران نکلنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

پی آئی ایم ایس واقعے کے بعد حکام نے ہسپتال انتظامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر آگ کے الارمز، ہنگامی راستوں اور دھواں پتہ لگانے والے سسٹمز کو فعال کریں۔ حکام نے بچوں (پیڈیاتڑک) اور گائناکالوجی وارڈز کو ترجیحی بنیادوں پر 100% محفوظ بنانے کی خصوصی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

حکام نے زور دیا ہے کہ فائر سیفٹی کے انتظامات جلد از جلد مکمل کیے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو ضمنی حفاظتی خامیوں کی نشان دہی کر کے انہیں ٹھیک کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، تاہم ابھی تک مکمل تصدیق کے لیے حتمی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔

اہلِ علاقہ اور مریضوں کے لواحقین کی حفاظت کے حوالے سے تاحال نگرانی اور مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519