واشنگٹن پوسٹ نے پی آئی ایم ایس نرس رازیہ نورین کو قومی ہیرو قرار دے دیا، حکومت نے ستارۂ خدمت اور مالی انعام کا اعلان کیا

واشنگٹن پوسٹ نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کی نرس رازیہ نورین کی بہادری کو 'قومی ہیرو' قرار دیا؛ حکومت نے انہیں ستارۂ خدمت اور مالی انعام دینے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد — واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کی نرس رازیہ نورین کی بہادری کو سراہا، جنہوں نے ایک شدید آگ زدہ نرسری میں بھاگ کر صرف 8 سیکنڈ میں ایک نوزائیدہ کو بچایا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ خدمت اور مالی انعام دینے کا اعلان کیا۔ اس واقعے میں 14 نوزائیدہ ہلاک ہوئے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک ایسوسی ایٹڈ پریس (ای پی) رپورٹ کو نمایاں کرتے ہوئے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں پیش آنے والی آگ کے دوران نرس رازیہ نورین کی بہادری کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رازیہ نورین نرسری میں داخل ہوئیں اور محض 8 سیکنڈ میں ایک نوزائیدہ بچے کو آگ اور دھوئیں سے باہر نکال کر لے آئیں۔ وہ دوبارہ اندر جا کر باقی بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر تیز شعلوں اور گھنے دھوئیں کے باعث واپس آنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن بچوں میں سے ایک کو بچایا گیا وہ اس آگ کا واحد زندہ بچ جانے والا نوزائیدہ تھا۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر 14 نوزائیدہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

رازیہ نورین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نرس اور ماں کی حیثیت سے فرض نبھانے گئی تھیں، نہ کہ شہرت یا انعام کے لیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا واحد مقصد بچوں کو بچانا تھا اور انہوں نے اپنی حفاظت کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان 14 نوزائیدہ کی موت پر گہرا دکھ اور صدمہ ظاہر کیا اور کہا کہ واقعے نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا ہے۔

ماخذ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے رازیہ نورین کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ستارۂ خدمت دینے اور مالی انعام کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی قربانی اور پیشہ ورانہ جرأت ملک کے لیے قابلِ فخر ہے۔

یہ واقعہ اور اس کے بعد ہونے والی بین الاقوامی کوریج پاکستانی طبی اداروں میں حفاظت اور آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں سوالات اور توجہ کا باعث بن رہی ہے۔ پی آئی ایم ایس واقعے کی مزید تفصیلات اور ممکنہ تحقیقات کے حوالے سے حکومتی یا اسپتال کی جانب سے جاری رسمی بیانات ماخذ میں شامل نہیں تھے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516