جماعتِ اسلامی نے کراچی میں تعلیمی کارڈ پروگرام شروع کیا، 50,000 طلبہ تک پھیلانے کا اعلان

جماعتِ اسلامی کی گلشنِ اقبال ٹاؤن انتظامیہ نے تعلیمی کارڈ 2026 پروگرام کے تحت 600 سے زائد طلبہ کو یونیفارم اور تعلیمی ساز و سامان فراہم کیا اور 50,000 طلبہ تک توسیع کا اعلان کیا۔

جماعتِ اسلامی کی زیرِ قیادت گلشنِ اقبال ٹاؤن انتظامیہ نے تعلیمی کارڈ 2026 پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت چھ سرکاری اسکولوں کے 600 سے زائد طلبہ کو یونیفارم، اسکول بیگز، اسٹیشنری اور دیگر تعلیمی ساز و سامان فراہم کیا گیا؛ جماعتِ اسلامی نے اسے نو ٹاؤن انتظامیات میں پھیلانے اور مجموعی طور پر 50,000 طلبہ تک پہنچانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

کراچی — جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گلشنِ اقبال ٹاؤن انتظامیہ نے ‘تعلیمی کارڈ 2026’ پروگرام کا آغاز کر کے مقامی سرکاری اسکولوں کے 600 سے زائد طلبہ کو بنیادی تعلیمی اشیاء فراہم کرنا شروع کر دیا ہے۔ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح جماعتِ اسلامی کراچی کے سربراہ منعم ظفر نے کیا۔

منعم ظفر نے افتتاحی تقریب کے دوران کہا کہ تعلیم جماعتِ اسلامی کی ترقی اور تعمیرِ نو کی حکمتِ عملی کے مرکز میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو تعلیم دینا اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے اور ترقی و تعمیر کا سفر تعلیم کے ذریعے آگے بڑھے گا۔

کارکنوں اور مقامی محکمہ تعلیم کے تعاون سے شروع کیے گئے اس اقدام میں یونیفارم، اسکول بیگز، اسکول اسٹیشنری اور دیگر ضروری تعلیمی ساز و سامان شامل ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ یہ پروگرام گلبرگ ٹاؤن میں کیے گئے ایک مشابہ منصوبے کے بعد عمل میں آیا اور اب اسے نو ٹاؤن انتظامیات میں وسعت دے کر کل 50,000 طلبہ تک پہنچانے کا ارادہ ہے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گلشنِ اقبال ٹاؤن میں گزشتہ تین سال کے دوران سرکاری اسکولوں میں داخلہ نمایاں حد تک بڑھا ہے اور پارٹی کی نمائندگی میں سرکاری اسکولوں کی بحالی اور بہتری کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

اسی موقع پر منعم ظفر نے گزشتہ حکومتوں پر تنقید بھی کی، کہا کہ سرکاری اسکولوں کی بنیادی سہولتوں کی کمی حکومتوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول جماعتِ اسلامی مقامی سطح پر ایسے پروگراموں کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارٹی کے اس اعلان کا وہ فوری مالی یا عملی نقشہ شائع نہیں کیا گیا جس سے واضح ہو کہ 50,000 طلبہ تک توسیع کب اور کن وسائل کے ساتھ ممکن ہو گی۔ اس دوران والدین اور مقامی تعلیم کے حکام کے ردِ عمل اور پروگرام کی عملی تاثیر پر مزید تفصیلات آنے کا انتظار ہے۔

جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ پبلک اسکولوں کی بحالی اور بچوں کے داخلوں میں اضافہ مقامی سماجی اور تعلیمی بہتری کا باعث بنے گا، جبکہ ناقدین اس طرح کے منصوبوں کی پائیداری اور وسعت پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516