بوشہر میں روس کا جوہری قدم؛ ایران میں 700 ماہرین تعینات کرنے کا اعلان، آٹھ نئے ری ایکٹرز کا منصوبہ
تہران/ماسکو،(ویب ڈیسک) 29 اکتوبر 2026 — روسی سرکاری جوہری ادارے روس اٹوم (روساتوم) کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں روسی ماہرین کی تعداد بڑھا کر تقریباً 700 کرنے کا منصوبہ ہے۔ روسی خبر رساں اداروں کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس وقت تقریباً 192 روسی ماہرین تعمیراتی اور سروس کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ مزید اہلکاروں کی تعیناتی کا انحصار خطے کی سکیورٹی صورتِ حال پر ہوگا۔ روس نے ایران میں بڑے جوہری بجلی گھروں کے علاوہ چھوٹے پیمانے کے جوہری توانائی یونٹس پر بھی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
روس ایران جوہری تعاون: توانائی یا اسٹریٹجک شراکت؟
بوشہر ایران کا اہم شہری جوہری بجلی گھر ہے۔ اس کا پہلا ری ایکٹر تقریباً ایک گیگاواٹ کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ یونٹس 2 اور 3 کی تعمیر بھی جاری ہے۔ روس اور ایران کے درمیان مزید آٹھ جوہری پاور یونٹس کے لیے معاہدوں اور چھوٹے جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں کی اطلاعات دونوں ممالک کے طویل مدتی توانائی تعاون کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاہم، منصوبوں کے اعلان اور ان کی عملی تکمیل میں کئی سال، مالی وسائل اور سخت تکنیکی نگرانی درکار ہو سکتی ہے۔
تکنیکی پہلو: (این پی ٹی)، (آئی اے ای اے) اور جوہری تحفظ
جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ(این پی ٹی) پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی اجازت دیتا ہے، لیکن جوہری مواد کے فوجی استعمال کی روک تھام اور متعلقہ حفاظتی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی، جوہری مواد کا حساب، ری ایکٹر کی حفاظت، ہنگامی ردِعمل اور تابکاری سے تحفظ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ روسی ماہرین کی تعداد بڑھنا بذاتِ خود کسی فوجی جوہری سرگرمی کا ثبوت نہیں۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
بوشہر کے قریب 2026 میں پیش آنے والے حملوں سے متعلق (آئی اے ای اے) کے واقعاتی ریکارڈ نے جوہری تنصیبات کی حفاظت کے خدشات نمایاں کیے۔ ایسے ماحول میں افرادی قوت بڑھانے کا فیصلہ روس کے منصوبے جاری رکھنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، مگر عملی پیش رفت سکیورٹی خطرات اور بین الاقوامی نگرانی سے مشروط رہے گی۔




