ایران کی (این پی ٹی) سے ممکنہ علیحدگی پر روس بھی محتاط، کریملن کا تہران کو معاہدے میں رہنے کا مشورہ
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے ممکنہ علیحدگی کی بحث نے نہ صرف مغربی ممالک بلکہ اس کے اہم شراکت دار روس کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے 29 ستمبر کو واضح کیا کہ ماسکو نہیں چاہتا کہ ایران (این پی ٹی) سے دستبردار ہو۔ ان کے بقول، “ہم نہیں چاہتے کہ ایران (این پی ٹی) سے دستبردار ہو؛ ہم اس معاہدے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا سنگِ بنیاد سمجھتے ہیں۔”
یہ بیان ایرانی نائب اسپیکر پارلیمنٹ علی نیک زاد کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ ایرانی پارلیمان میں (این پی ٹی) سے علیحدگی کے لیے “تین گنا فوری” (triple-urgency) بل پر غور کیا جارہا ہے۔ نیک زاد کے مطابق مسودے کے بین الاقوامی اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور منظوری کے لیے اسے غیر معمولی عجلت کے طریقہ کار کے تحت پارلیمان میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
اصل تنازع کہاں ہے؟
تہران میں (این پی ٹی) سے علیحدگی کی آوازیں بنیادی طور پر (آئی اے ای اے) اور اس کے سربراہ رافائل گروسی پر عدم اعتماد، ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں اور مغربی دباؤ کے پس منظر میں بلند ہوئی ہیں۔ نیک زاد نے (آئی اے ای اے) پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ معائنوں کے بعد ایران کے خلاف منفی رپورٹس جاری کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ پارلیمانی اقدام ابھی حتمی ریاستی فیصلہ نہیں ہے۔
ایرانی سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر اتفاقِ رائے نظر نہیں آتا۔ ایرانی رکن پارلیمان محمد مہدی شہریاری نے کہا ہے کہ (این پی ٹی) سے علیحدگی کی فوری قرارداد کو پارلیمان میں مطلوبہ حمایت ملنا مشکل ہوسکتا ہے اور ان کے مطابق یہ قدم جنگ کے دوران ایران کے لیے مزید اخراجات اور کشیدگی کا باعث بنے گا۔
تاریخی تناظر
ایران مارچ 1970 میں (این پی ٹی) کا رکن بنا۔ معاہدہ غیر جوہری ریاستوں کو جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہ کرنے کا پابند کرتا ہے، جبکہ پرامن جوہری توانائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔
روس کی موجودہ پوزیشن بھی اہم ہے۔ ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مضبوط ہیں، لیکن روس خود بھی عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی لیے کریملن کا پیغام یہ دکھاتا ہے کہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود روس (این پی ٹی) سے ممکنہ علیحدگی کو ایک حساس قدم سمجھتا ہے۔
دلچسپ طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران کو (این پی ٹی) کا “پرعزم رکن“ قرار دیا اور کہا کہ تہران پرامن جوہری توانائی کے لیے افزودگی کو اپنی ذمہ داریوں کے مطابق سمجھتا ہے۔
اس لیے موجودہ صورتحال کو v سے ایرانی حتمی علیحدگی کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال یہ ایک سنجیدہ پارلیمانی تجویز ہے جس کے ذریعے تہران اپنے جوہری تنازع، سلامتی اور بین الاقوامی دباؤ کے بارے میں سیاسی پیغام بھی دے رہا ہے۔




