ایڈن گارڈنز: ناراض سلیم ملک نے 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 72 رنز سے بھارت کے خلاف میچ پلٹ دیا

18 فروری 1987 کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ناراض سلیم ملک نے 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 72 رنز بنا کر پاکستان کو سنسنی خیز فتح دلا دی؛ کپتان عمران خان کے ساتھ تناؤ بھی سامنے آیا۔

18 فروری 1987 کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک نے 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 72 رنز بناتے ہوئے انڈیا کے خلاف ون ڈے میں پاکستان کو آخری اوور میں سنسنی خیز فتح دلائی۔ اس اننگز کے دوران ان کے اور کپتان عمران خان کے بیچ تناؤ بھی سامنے آیا؛ سلیم نے کہا کہ عمران خان انہیں دورے سے واپس بھیجنے پر غور کر رہے تھے اور جب عمران نے کہا ’جو مرضی کرنا ہے، کرو‘ تو سلیم نے جارحانہ بیٹنگ کر کے پاکستان کو جتوانے کا کام کیا۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں تقریباً 80 ہزار تماشائیوں کے سامنے کھیلے گئے اس میچ میں انڈیا نے 238 رنز بنائے۔ جواب میں پاکستان کا آغاز رمیز راجہ اور 39 سالہ یونس احمد نے 106 رنز کی شراکت کے ساتھ اچھا رہا۔ یونس احمد اس دن 17 سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے تھے۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی وکٹیں گرتی رہیں اور ایک وقت ٹیم کا اسکور 161 پر 5 ہو گیا۔

اسی سنگین صورتحال میں میدان میں اترنے والے سلیم ملک نے انڈین بولرز کے خلاف جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ کپل دیو، مدن لال اور منیندر سنگھ جیسے تجربہ کار بولرز ان کے نشانے پر تھے اور سلیم کے اوورز میں تین چار چوکے عام بات بن گئے۔ اس اننگز میں صرف ایک موقع ایسا آیا جب انڈیا سلیم کی وکٹ حاصل کر سکتا تھا: تقریباً 30 رنز پر منیندر سنگھ کی گیند پر وکٹ کیپر چندرکانت پنڈت سٹمپنگ کا موقع گنوا بیٹھے۔ چندرکانت پنڈت نے بعد میں کہا تھا: ’سلیم ملک، منیندر سنگھ کی گیند پر آن ڈرائیو کھیلنے کے لیے کریز سے باہر نکل گئے تھے۔ گیند میرے دستانوں سے نکل گئی اور انھیں واپس کریز میں لوٹنے کا موقع مل گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہ میچ اسی وقت ہار گئے تھے۔‘

سلیم ملک نے بعد میں میچ اور اپنے ناراض ہونے کی وجہ بھی بتائی: ’اس دورے پر مجھ سے رنز نہیں بن رہے تھے۔ اس کی ایک وجہ میرا بیٹنگ آرڈر بھی تھا، جو بہت نیچے رکھا گیا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ مدثر نذر نے انہیں بتایا کہ کپتان عمران خان انہیں دورے سے واپس بھیجنے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور وہ اوپر بٹھانے کی درخواست بھی کی۔ سلیم کے مطابق کولکتہ ون ڈے میں عمران خان نے کہا کہ ’ون ڈاؤن بیٹنگ کے لیے پیڈ پہن لو۔ لیکن میں حیران رہ گیا جب ون ڈاؤن پر پہلے جاوید میانداد گئے، پھر عبدالقادر اور اس کے بعد منظور الٰہی کو بھیج دیا گیا۔‘

میچ کے فیصلے والے لمحات میں سلیم نے جب کریز پر آکر پوچھا ’کپتان، اب کیا کرنا ہے؟‘ تو عمران خان نے غصے میں جواب دیا، ’جو مرضی کرنا ہے، کرو۔‘ اسی جواب کے بعد سلیم نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کر کے صرف 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 72 رنز بنا کر پاکستان کو فتح دلوائی۔

سلیم ملک کی اس اننگز کو ون ڈے تاریخ کی یادگار ترین اننگز میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ اُن کا کیریئر بعض تنازعات کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کرکٹر ڈیوڈ گاور نے سلیم کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’ایسا لگتا تھا کہ وہ مخمل (ویلویٹ) کے دستانے پہن کر بلے بازی کرتے ہیں۔‘ اور مشہور شاعر شیفتہ کا مصرع بھی یاد آتا ہے: ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519