(بی بی سی اردو) بالی وڈ اداکار سنجے دت کے شیکھر سمن کے شو میں دئیے گئے متنازعہ تبصرے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تنقید ہوئی، جس کے بعد انھوں نے فیس بک پر اپنے تبصروں کی وضاحت جاری کی۔
بالی وڈ اداکار سنجے دت نے شیکھر سمن کے شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں انڈیا کی موجودہ حالت کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں ’پہلے جیسا امن‘ محسوس نہیں کرتے اور مزاحیہ انداز میں خود کو وزیرِاعظم سمجھ کر خطاب کیا۔ پروگرام کے دوران ان کے کچھ بیان سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے لگے اور کئی حلقوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
بی بی سی اردو کے مطابق بعض ناظرین اور مبصرین نے ان کے ایک طرزِ تقریر کو وزیرِاعظم یا حکومت پر طنزیہ تنقید کے طور پر دیکھا۔ یہاں تک کہ بی جے پی مہاراشٹرا کے مقامی رہنما پرینے فوک نے ردعمل میں کہا کہ ’اگر سنجے دت کو انڈیا میں شانتی نہیں ملتی تو پاکستان یا جیل میں شانتی ملے گی۔‘
شدید بحث کے بعد سنجے دت نے فیس بک پر ایک وضاحتی پیغام شیئر کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا گیا۔ انھوں نے لکھا کہ ان کا مقصد کسی فرد، برادری یا تنظیم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی توہین کرنا نہیں تھا اور کہ ان کے تبصرے دراصل سکرپٹڈ گفتگو اور ہلکے پھلکے مزاح پر مبنی تھے۔
شو میں دت نے گاندھی کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن محبت اور یکجہتی سے آتا ہے اور طنز کے انداز میں بین الاقوامی کشیدگیوں پر بھی بات کی۔ پروگرام کے کلپس اور اقتباسات سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہے، اور مختلف صارفین نے ان کے بیان کی تشریحوں پر تبصرے کیے۔
بی بی سی اردو نوٹ کرتا ہے کہ سوشل میڈیا تبصروں اور سیاسی ردعمل کے بعد دت کی وضاحت نے معاملے کو فی الحال ذاتی سطح تک محدود کر دیا ہے، تاہم اس طرح کے بیانات کے عوامی ردِ عمل سے مبصرین بحث جاری رہنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔




