(بی بی سی اردو) طالبان حکومت نے افغانستان کے شمال مشرق میں واخان راہداری میں بدخشان کے بروغل سے چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر طویل بجری والی سڑک اور کئی پلوں کا افتتاح کر دیا ہے، جس پر سرکاری طور پر 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی خرچ کیے گئے۔
طالبان حکومت نے بدخشان کے بروغل علاقے سے چین کی سرحد تک جانے والی واخان راہداری کی سڑک باضابطہ طور پر کھول دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ کچی بجری والی شکل میں 121 کلومیٹر طویل ہے اور اس کے ساتھ چار بڑے اور 66 چھوٹے پل بنائے گئے جبکہ تقریباً 3,100 میٹر لمبی حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی گئی ہے۔
افتتاحی تقریب میں طالبان حکومت کے وزیر دیہی بحالی و ترقی عبداللطیف منصور اور بدخشان کے گورنر رحمت اللہ نجیب سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ منصور نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے واخان ضلع کے رہائشیوں، خصوصاً پامیر کے باشندوں، کو آمد ورفت میں سہولت ملے گی اور مستقبل میں یہ افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم تجارتی و ٹرانزٹ راستہ بن سکتی ہے۔
طالبان وزارتِ دیہی بحالی و ترقی نے کہا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے سرکاری بجٹ سے 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی خرچ کیے گئے۔ منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ذمہ دار محمد اسماعیل نے کہا: “اب ہم براہِ راست چین سے منسلک ہو گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی گاڑی، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی، اب وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔”
طالبان حکام نے اس اقدام کو عوامی فلاح اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ منصوبے غیر ملکی مشیروں یا انجینیئروں کے بغیر مقامی صلاحیتوں پر مکمل کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورکس، ایک صحت مرکز اور ایک اسکول کے قیام کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں۔
ماخذ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے اس زمینی رابطے کے حوالے سے حفاظتی خدشات موجود ہیں اور سنکیانگ کے سرحدی علاقے میں ابھی تک ایسے سرحدی مراکز یا کسٹم سہولتیں قائم نہیں کی گئیں۔ افتتاحی تقریب میں کسی چینی عہدیدار کی شرکت نہ ہونا بھی اس معاملے میں بیجنگ کی احتیاط کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
واخان وادی اپنی بلند برف پوش چوٹیوں اور نایاب جنگلی حیات کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی معروف ہے اور طالبان حکومت امید ظاہر کر رہی ہے کہ سڑک کے کھلنے سے علاقے میں سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔




