سعودی عرب نے قومی غذائی اجزاء کا پہلا ڈیٹا بیس متعارف کرا دیا

سعودی فوڈ اینڈ ڈرَگ اتھارٹی نے 31 اگست 2026 کو مملکت کا پہلا قومی غذائی اجزاء ڈیٹا بیس شروع کیا، جو تحقیق، لیبلنگ اور عوامی صحت کی حکمتِ عملیوں کو سائنسی بنیاد فراہم کرے گا۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرَگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے 31 اگست 2026 کو مملکت کا پہلا قومی غذائی اجزاء کا ڈیٹا بیس جاری کر دیا، جس کا مقصد غذائی تحقیق، عوامی صحت کی حکمتِ عملی اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو سائنسی بنیادوں پر مضبوط کرنا ہے۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرَگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے مملکت کے روایتی اور تجارتی کھانوں کے غذائی اجزاء سے متعلق مستند معلومات ایک جگہ جمع کرنے والا پہلا قومی ڈیٹا بیس متعارف کروا دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق یہ ڈیٹا بیس گھریلو پکوان اور مارکیٹ میں دستیاب پیکڈ مصنوعات دونوں کے کیلوریز، پروٹین، چربی، کاربوہائیڈریٹس، مائیکرونیوٹرینٹس اور سوڈیم کے درست اعداد و شمار فراہم کرتا ہے۔

اتھارٹی نے بتایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غذائی تحقیق کی حمایت، عوامی صحت کی بہتر منصوبہ بندی اور مقامی صنعت میں شفافیت لانا ہے۔ ریسرچرز، کھانے کے تولید کنندگان، طبیب، ڈائٹیشن اور عام عوام اب خطے مخصوص غذائی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

سائنسی بنیادوں پر دستیاب یہ معلومات صحت عامہ کے حکام کو موٹاپا، ذیابیطس اور قلبی امراض جیسی طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریاں کم کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملیاں تیار کرنے میں مدد دیں گی۔ علاوہ ازیں تعلیمی اور کلینیکل تحقیق کو مضبوط ڈیٹا فراہم ہونے سے سعودی عرب، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سطح پر مطالعات اور کلینیکل ٹرائلز کے لیے قابل اعتماد حوالہ میسر ہوگا۔

ڈیٹا بیس مقامی پیدا کرنے والوں کو پیکڈ خوراک کی درست غذائی لیبلنگ میں بھی مدد دے گا، جس سے صارفین کو مصنوعات کے غذائی معیار کے بارے میں شفاف معلومات فراہم ہوں گی۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام صحت کے شعبے کے تبدیلی پروگرام اور معیارِ زندگی کے پروگرام کے تحت سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ منسلک ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بہتر لیبلنگ اور غذائی شعور کے فروغ سے عوام کو صحت مند خوراک کے انتخاب میں آسانی ہوگی اور نتیجے میں طرزِ زندگی سے وابستہ دائمی بیماریوں میں کمی ممکن بنائی جا سکے گی۔

پروجیکٹ کے نفاذ کی تفصیلات، ڈیٹا بیس کی دستیابی کے طریقہ کار یا عوامی رسائی کے مخصوص راستوں کے بارے میں آرٹیکل میں مزید تکنیکی معلومات شامل نہیں کی گئیں، تاہم اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی غذائی پالیسیوں کی مضبوطی اور طویل المدت صحت کے اہداف کے لیے ایک کلیدی سنگِ میل قرار دیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527