وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے لندن میں ڈوئچے بینک کے مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ ریجنل سی ای او جمال الکشی سے ملاقات میں سعودی بنیاد والی کمپنیوں کو پاکستان میں خصوصاً بلاک چین، ٹیکنالوجی، توانائی اور کان کنی میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی، اور بیرونی مالیاتی ذرائع میں تنوع اور نجی شعبے کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی بنیاد والی کثیر القومی کمپنیوں کو انفراسٹرکچر، تیل و گیس، یوٹیلٹیز، کان کنی، ٹیکنالوجی اور بلاک چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے لندن میں ڈوئچے بینک کے مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ ریجنل سی ای او جمال الکشی سے ملاقات کے دوران کہی۔
اورنگزیب نے بین الاقوامی اور خطائی سرمایا کاروں کے لیے پاکستان میں شراکت کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جاری معاشی اصلاحات ملک کو اضافی مالیاتی گنجائش فراہم کر رہی ہیں اور حکومت بیرونی مالی اعانت کے ذرائع کو متنوع کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی سرمائے اور مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جمال الکشی نے ڈوئچے بینک کی پاکستان کے لیے طویل مدتی وابستگی کی تصدیق کی اور کہا کہ بینک کارپوریٹ اور سرمایہ کاری بینکنگ خدمات میں توسیع میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک پاکستان کے حوالے سے اپنی نمائش بڑھانے اور خلیج کے خاص طور پر سعودی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری و سرمایہ کاری روابط کو مضبوط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
اورنگزیب نے ڈوئچے بینک کی مسلسل شرکت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور نجی شعبہ کے وسیع کردار سے پاکستان کو سرمایہ کاری لانے، مالیاتی مارکیٹوں کی ترقی اور طویل المدتی معاشی نمو کے حصول میں مدد ملے گی۔
یہ ملاقات اسی پس منظر میں ہوئی کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بناتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے، خصوصاً توانائی، ٹیکنالوجی اور کان کنی جیسے شعبوں میں بڑا سرمایہ متوقع ہے۔




