اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مئی 2026 میں انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ سے صرف 154 ملین ڈالر خریدے، جو جنوری 2025 کے بعد سب سے کم ماہانہ رقم ہے، مرکزی بینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں حج کے مسافروں کی بڑھی ہوئی ڈالر طلب اور ڈالر کی تنگ دستی ایس بی پی کی خرید کم کرنے کی اہم وجہ بتائی گئی ہے۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ایس بی پی نے اپریل میں 635 ملین ڈالر خریدے تھے، جبکہ مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ کے دوران مارکیٹ سے کل خریداری 7.3 بلین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے میں 7.2 بلین ڈالر سے معمولی طور پر زیادہ ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مئی میں خریداری میں اچانک کمی کی ایک بڑی وجہ حج کے سلسلے میں سعودی عرب جانے والے مسافروں کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی مضبوط طلب تھی۔ ڈالر کی نسبتاً کم دستیابی نے ایس بی پی کو مارکیٹ سے ڈالر خریدنے میں احتیاط برتنے پر مجبور کیا تاکہ مقامی کرنسی پر اضافی دباؤ پیدا نہ ہو۔
اسٹیٹ بینک عام طور پر اضافی ڈالر انٹر بینک مارکیٹ سے خرید کر اپنے غیرملکی زرِمبادلہ ذخائر بڑھاتا ہے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد لیتا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق مئی کے آخر تک ملک کے غیرملکی زرِمبادلہ ذخائر 17.2 بلین ڈالر تھے۔ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ جاری مالی سال کے دوران ذخائر 21 بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
اقتصادی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونی شعبے کی صورتحال مضبوط ترسیلات زر اور نسبتاً محدود کرنٹ اکاونٹ خسارے کی وجہ سے مستحکم رہی ہے۔ پاکستان کو بھیجی جانے والی ترسیلات زر مالی سال 2026 میں 41 بلین ڈالر سے زائد رہیں اور حکومت اور ایس بی پی کی پیش گوئی ہے کہ یہ مالی سال 2027 میں 44 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
کرنٹ اکاونٹ خسارہ جولائی میں 328 ملین ڈالر تک کم ہو گیا، جو پچھلے ماہ کے مقابلے میں 60 فیصد اور گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 38 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایس بی پی توقع کرتا ہے کہ مالی سال 2027 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہے گا۔
ماہرین کے مطابق مئی میں ایس بی پی کی خریداری میں کمی کا فوری اثر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی فراہمی پر محسوس ہو سکتا ہے اور اگر ترسیلات یا برآمدات میں کمی ہوئی تو روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم موجودہ بلند ترسیلات اور متوقع ذخائر کے بڑھنے کے پیشِ نظر بیرونی شعبہ مجموعی طور پر نسبتاً سپورٹڈ نظر آتا ہے۔




