سٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری سرکلر میں غیردرجہ بند (unrated) بڑے نجی شعبے کے قرضہ داروں کے لیے بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانس اداروں (DFIs) سے مجموعی نمائش کی حد 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دی، جس کا اطلاق 30 ستمبر سے ہو گا۔ مرکزی بینک نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ معاشی ماحول میں تبدیلیوں اور بینکنگ صنعت کی آراء کی روشنی میں کیا گیا۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایک سرکلر کے ذریعے غیردرجہ بند بڑے نجی شعبے کے قرضہ داروں کے لیے مختلف بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانس اداروں کے مجموعی رسک ایکسپوژر کی حد کو 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دیا ہے۔
بینک کے سرکلر کے مطابق یہ نظر ثانی شدہ حد 30 ستمبر سے نافذ العمل ہو گی۔ مرکزی بینک نے اس اقدام کی وجہ معاشی ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں اور بینکنگ سیکٹر سے موصولہ فیڈ بیک قرار دی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ نیا حد کارڈ ری وائزد انسٹرکشنز فار کریڈٹ رسک میں شامل کیا جائے گا، جو بیسل III فریم ورک کے تحت اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ کے مطابق ہے اور جسے بینک اور DFIs بیک وقت نافذ کر رہے ہیں۔
مرکزی بینک نے واضح کیا کہ تنظیمی فریم ورک کے تحت دیگر احتیاطی (prudential) ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ رواں ہدایات برقرار رہیں گی۔
یہ فیصلہ بینکنگ انڈسٹری میں بڑے نجی قرضہ داروں کی کریڈٹ نمائش کے انتظام اور بیسل III کے معیار کے تحت رسک کے جائزے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پروپیکاسٹ ماخذ نے اس تبدیلی کی اطلاع دی ہے۔




