(بی بی سی اردو) تاریخی کتب اور محققین کے حوالے سے یہ روایت ملتی ہے کہ مغل صوبیدار شائستہ خان کے دورِ حکومت میں آٹھ من چاول ایک روپے (ایک ٹکا) میں دستیاب ہوتے تھے اور اس رعایت کی یاد میں لال باغ قلعے کا ایک دروازہ بند رکھا گیا، جو بعد میں 1740 میں کھولا گیا۔
بی بی سی اردو میں شائع ایک تاریخی مرور میں محققین اور قدیم حوالوں کی بنیاد پر یہ روایت عرصے سے گردش کرتی ہے کہ مغل صوبیدار شائستہ خان کے عہدِ صوبیداری میں بنگال میں چاول اور دیگر اشیائے خوردونوش نسبتاً سستی تھیں۔ متعدد تاریخ دانوں کی کتب میں لکھا گیا ہے کہ اس زمانے میں ایک روپے میں عام طور پر آٹھ من یا بعض بیانات کے مطابق نو من تک چاول ملتے تھے۔
حوالہ جاتی روایات کے مطابق جب شائستہ خان بنگال سے روانہ ہوئے تو انہوں نے ڈھاکہ کے لال باغ قلعے کے مغربی دروازے پر کندہ عبارت چھوڑی کہ اس دروازے کو صرف اسی حالت میں کھولا جائے جب چاول کی قیمت اسی قدر سستی ہو جائے۔ پروفیسر عبد الکریم اور دیگر محققین نے اپنی کتب میں اس واقعے اور دروازے کے چند دہائیوں تک بند رہنے کا ذکر کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ یہ روایت برطانوی اور دیگر غیر ملکی مصنفین نے بھی نقل کی؛ مثال کے طور پر انیسویں صدی کے مصنف بریڈلی برٹ نے لکھا کہ پورے صوبے میں شائستہ خان کی یاد احترام کے ساتھ کی جاتی ہے اور ان کے دور میں چاول بہت سستے ملتے تھے۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ شائستہ خان نے زرعی پیداوار بڑھانے، تاجروں کی حوصلہ افزائی اور بدعنوانی کم کرنے کے اقدامات کیے جس کے باعث بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے رہیں۔
تاہم بی بی سی اردو نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ تاریخ دانوں کے درمیان اس روایت کی تشریح میں اختلاف پایا جاتا ہے: کچھ مورخین اسے حقیقی معاشی پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ بعض مفکرین اس کے مبالغہ آمیز حوالوں یا بعد ازاں بننے والی روایات کا نتیجہ ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر بی بی سی اردو کا مطلب یہ ہے کہ شائستہ خان کی حکومت کو بنگال میں عام طور پر عوامی ریلیف اور اقتصادی استحکام کے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور ایک روپے میں آٹھ من چاول کی روایت اسی یادداشت کی علامت بن چکی ہے۔




