مکہ معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ عسکری طاقت ایک نئے مرحلے میں
“پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت فوجی دستے اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے”—یہ پیش رفت تینوں ممالک کے درمیان محض سیاسی یکجہتی کے بجائے عملی دفاعی تعاون کی طرف بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت ہے۔ 5 اکتوبر 2026 کو ریاض میں تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام کی ملاقات میں انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر گفتگو ہوئی۔ یہ اجلاس حوثیوں کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے پس منظر میں ہوا۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ 7 اگست 2026 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں دستخط کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا اور اس کا مقصد اجتماعی دفاعی بازداریت کو مضبوط بنانا ہے۔
تاریخی تناظر: پرانے دفاعی تعلقات کا نیا ادارہ جاتی مرحلہ
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ پاکستانی فوج نے طویل عرصے سے سعودی افواج کی تربیت اور دفاعی معاونت میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان بھی جنگی تربیت، بحری تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری بڑھتی رہی ہے۔ 2023 میں سعودی عرب نے ترکیہ کے ڈرونز کی خریداری کا بڑا معاہدہ بھی کیا تھا۔
نیا معاہدہ ان دوطرفہ روابط کو تین طرفہ دفاعی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ اگست کے آخر میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں ایک مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے۔
موجودہ بحران نے اس معاہدے کی عملی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ستمبر میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت یا یمن کی جنگ کا سعودی سرزمین تک پھیلاؤ معاہدے کو فعال کرسکتا ہے۔
اس لیے مکہ معاہدے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ سعودی مالی و جغرافیائی وزن، ترکیہ کی دفاعی صنعت اور پاکستان کی عسکری صلاحیت ایک مشترکہ علاقائی دفاعی فریم ورک میں آ رہی ہیں۔ یہ خلیج میں امریکی سکیورٹی انحصار کے ساتھ ایک متبادل یا اضافی علاقائی دفاعی تہہ بنانے کی کوشش بھی سمجھی جارہی ہے۔




