۱۸۵۳کے بعد ایران کے دباؤ سے امریکا ۱۰۰۰ کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مشیر بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے 4 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ 1853 کے بعد پہلی بار خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز، خلیجِ عمان یا شمالی بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اور پاسدارانِ انقلاب کی بحری طاقت کے باعث امریکی افواج ایران سے 1,000 کلومیٹر سے زائد دوری پر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

امریکی بحری بیڑہ خلیج سے پیچھے ہٹ گیا

“ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحری افواج ایران کی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ پیچھے ہٹ گئی ہیں اور پہلی مرتبہ 1853 کے بعد خلیج فارس، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور شمالی بحرِ ہند میں کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں”—یہ دعویٰ بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے 4 اکتوبر کو ایرانی سرکاری ٹی وی پر گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے اس واپسی کو واشنگٹن کا رضاکارانہ فیصلہ نہیں بلکہ ایران اور IRGC نیوی کی عسکری طاقت کا نتیجہ قرار دیا۔

تاہم اس دعوے کو ایک اہم احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ دستیاب آزاد رپورٹس بنیادی طور پر فدوی کے بیان کی تصدیق کرتی ہیں، لیکن یہ آزادانہ طور پر ثابت نہیں کرتیں کہ امریکی بحریہ واقعی ایرانی دباؤ کے باعث ایک ہزار کلومیٹر پیچھے ہٹی۔ اسی طرح امریکی حکومت کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے “امریکا فرار ہوگیا” کو فی الحال ایرانی عسکری بیانیہ سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ غیر جانب دار طور پر ثابت شدہ حقیقت۔

تاریخی تناظر: 1853 کا حوالہ کیوں اہم ہے؟

فدوی نے امریکی بحری موجودگی کو 1853 تک لے جاکر دراصل ایک تاریخی طاقت کے مقابلے کا تاثر پیدا کیا ہے۔ خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی گزشتہ کئی دہائیوں میں بتدریج ایک بڑے سکیورٹی ڈھانچے میں تبدیل ہوئی، خصوصاً 1979 کے ایرانی انقلاب، ایران-عراق جنگ، خلیجی جنگ اور 1990ء کی دہائی کے بعد۔

امریکی بحری طاقت کا بنیادی مقصد صرف ایران کو روکنا نہیں بلکہ خلیجی تیل کی ترسیل، آبنائے ہرمز کی آزادی اور اتحادی ریاستوں کے دفاع کو یقینی بنانا بھی رہا ہے۔ آج بھی آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے؛ حالیہ اعداد کے مطابق ستمبر 2026 میں خطے کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی اوپر گئیں، اگرچہ بحری جہازوں پر حملوں کے خطرات برقرار رہے۔

اصل سٹریٹجک پیغام

فدوی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران آبنائے ہرمز کو مذاکرات اور دباؤ کے مرکزی آلے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے کی مکمل بحالی مخصوص شرائط سے منسلک ہے، جبکہ امریکی بحری موجودگی اور خطے میں فوجی اڈے تہران کی شدید تنقید کا مرکز ہیں۔

اگر امریکی بحریہ واقعی خلیج کے اندر اپنی موجودگی محدود کرچکی ہے تو یہ فورس پروٹیکشن، آپریشنل ری پوزیشننگ یا وسیع تر جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے؛ اسے صرف ایرانی عسکری شکست یا امریکی پسپائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اس واقعے کا سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز کے طاقت کے توازن پر ہے۔ ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خطے میں امریکی بحری طاقت بھی مکمل آزادی سے کام نہیں کرسکتی، جبکہ واشنگٹن کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایران کو روکنے کے ساتھ عالمی توانائی کی گزرگاہ کو محفوظ بھی رکھے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356