لاہور (سٹاف رپورٹر) سینٹر شری رحمان نے ایکس پر لکھا کہ “پارلیمنٹ ہاؤس میں رات کے تین بجے” انہیں چار مسودوں پر اپنی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اتفاقِ رائے مکمل کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی تجویز کردہ تبدیلیاں شامل کرنے کے لیے دوبارہ کھولنا پڑیں۔
سینٹر شری رحمان، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور مذاکراتی ٹیم کی رکن ہیں، نے اپنی حالیہ ایکس پوسٹ میں کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں رات کے تین بجے چار مسودوں کو دوبارہ کھولنا پڑا۔
رحمان نے پوسٹ میں لکھا کہ “چار مسودوں پر اپنی تمام اعلیٰ قیادت کے ساتھ اتفاقِ رائے مکمل کرنے، اور پھر پی ٹی آئی کی تجویز کردہ تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے انہیں دوبارہ کھولنے کے با…”۔ مختصر بیان میں انہوں نے اس تاخیر اور دوبارہ کھولنے کے عمل پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ماخذ کی تحریر کے مطابق یہ پیش رفت تب سامنے آئی جب مسودوں پر قیادت کے درمیان پہلے ہی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا، تاہم مذاکراتی عمل میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز شامل کرنے کے لیے دستاویزات پر دوبارہ غور کیا گیا۔
اس وقت کوئی اضافی وضاحت، سرکاری ردعمل یا مسودوں کی نوعیت کا تفصیلی بیان دستیاب نہیں ہے۔ شری رحمان کے اشارے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون سازی یا اپروچ کے حوالے سے پارلیمانی مذاکرات میں غیر متوقع دراڑ اور رضامندی کے بعد پھر تبدیلیوں کا اطلاق شامل مسائل میں شمار ہوا۔
مذکورہ ایکس پوسٹ میں بیان کردہ یہ دعویٰ تب تک سرکاری حوالہ جات یا متعلقہ جماعتوں کے اہلکاروں کی توثیق کے بغیر عوامی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتا۔ مزید تفصیلات یا سرکاری وضاحت جاری ہونے کی صورت میں تازہ معلومات شائع کی جائیں گی۔




