محکمہِ تعلیم سندھ کی نگرانی شاخ نے صوبے بھر میں 6,220 اسکول عمارتیں خستہ حال اور غیر محفوظ قرار دے دیں جس پر ہدایت کی گئی ہے کہ مون سون کے دوران طلبہ اور عملے کو قریبی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ فہرستیں صوبے کے تمام 30 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھجوا دی گئیں۔
محکمہِ تعلیم سندھ کی نگرانی شاخ نے صوبے بھر میں 6,220 اسکول عمارتوں کو خستہ حالت اور غیر محفوظ قرار دے کر ہدایت جاری کی ہے کہ خطرناک اور ساختی طور پر کمزور عمارتوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو متبادل محفوظ اسکولوں یا دیگر مناسب عمارتوں میں منتقل کیا جائے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام 30 اضلاع کی خطرناک اور جزوی طور پر خستہ عمارتوں کی فہرستیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو فراہم کی گئی ہیں اور انہیں محکمۂ تعلیم کے افسران کے مشورے سے فوری متبادل انتظامات کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ جو عمارتیں طلبہ اور عملے کے لیے غیر محفوظ سمجھی جائیں، انہیں خالی رکھا جائے گا۔
حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک اصل اسکول عمارتیں محفوظ قرار نہیں پاتیں، وہاں تعلیمی سرگرمیاں متبادل مقامات پر جاری رکھی جائیں تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔ محکمۂ تعلیم نے کہا ہے کہ یہ احتیاطی قدم مون سون کی بارشوں کے دوران مزید خرابی اور عمارتوں کی کمزوری سے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر میں نسبتاً زیادہ تعداد میں اسکول عمارتیں خطرناک قرار پائی ہیں۔ متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے اور وہ متاثرہ طلبہ کے لیے مناسب متبادل اسکول یا دیگر سہولیات تلاش کر رہے ہیں۔
محکمہ نے مقامی انتظامیہ سے کہا ہے کہ پناہ گاہیں، قریبی خالی اسکول عمارتیں یا کمیونٹی مراکز جیسے ممکنہ متبادل مقامات کی نشاندہی کی جائے، اور والدین، اساتذہ و عملے کو منتقل کرنے کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ رکھا جائے۔
محکمہِ تعلیم کے مطابق یہ قدم صرف حفاظتی غرض سے ہے تاکہ مون سون کی موسلا دھار بارشیں پہلے سے خستہ ڈھانچوں کو مزید نقصان پہنچا کر بچوں اور عملے کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔




