واشنگٹن (ویب ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پچھلے سال سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ اوسط انسان کے دماغ میں مائیکروپلاسٹک اور نینو پلاسٹک کی مقدار عام طور پر ایک پلاسٹک چمچ کے برابر ہوتی ہے، اور اب ایک گہرا جائزہ بتاتا ہے کہ بیرونی دنیا کی اشیا کی متنوع حد بھی دماغ تک پہنچ رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلے سال سائنسدانوں نے اوسط انسانی دماغ میں مائیکروپلاسٹک اور نینو پلاسٹک کی مقدار ایک پلاسٹک چمچ کی وزن کے برابر ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اب اس شواہد کے وسیع تر تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ محض یہ ذرات ہی نہیں بلکہ بیرونی ماحول سے تعلق رکھنے والی مختلف اقسام کی اشیا بھی دماغ تک پہنچ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ نئی بصیرت اس سوال کو تقویت دیتی ہے کہ انسانی بافتوں میں بیرونی مادّوں کے داخلے اور ان کے ممکنہ طبی اثرات کا پیمانہ پہلے سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس تجزیے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ شواہد اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت کی علامت ہیں۔
رپورٹ میں مخصوص مادّوں یا تعدد کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں؛ اس لئے رپورٹ میں موجود عمومی نتیجے کو مزید تجرباتی اور تصدیقی مطالعات کے ذریعے جانچا جانا باقی ہے۔
یہ دریافت طبی اور ماحولیاتی محققین کے لیے اہم ہے کیونکہ اگر دماغ تک مختلف بیرونی مادّے پہنچ رہے ہیں تو اس کے صحت اور نیورولوجیکل امراض پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تحقیق درکار ہوگی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ اس معاملے میں ابتدائی شواہد اور خبردار کرنے والا پیغام پیش کرتی ہے۔




