ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ساتویں روز داخل، معیشت کو 50 ارب روپے کا نقصان: محمد اویس چودھری

قومی گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہے اور ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین Muhammad Owais Chaudhry کے مطابق معیشت کو اندازاً 50 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے؛ ہڑتال یومِ آزادی کے روز بھی جاری رہی۔

قومی سطح کی گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور اس سے پاکستان کی معیشت کو تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے، یہ دعویٰ ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین Muhammad Owais Chaudhry نے یومِ آزادی کے موقع پر کیا۔

قومی ٹرانسپورٹرز کی گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال ہفتے کے ساتویں روز بھی جاری رہی جس کے باعث ملکی معیشت کو اندازاً 50 ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ بات ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین Muhammad Owais Chaudhry نے بتائی۔

چیئرمین Chaudhry نے کہا کہ ایک روزہ چکّا جام سے شروع ہونے والی یہ قومی ہڑتال یومِ آزادی کے دوران بھی برقرار رہی اور ٹرانسپورٹرز حکومت پر اپنے مطالبات قبول کروانے کا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات قانونی اور آئینی نوعیت کے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تنازعہ حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ Chaudhry نے کہا کہ صرف یقین دہانیوں کی بنیاد پر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی، بلکہ مطالبات کے اطلاق کے لیے واضح اور عملی اقدام درکار ہیں۔

ماخذ کے مطابق حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی ٹھوس لائحہ عمل یا حل پر اتفاق نہیں ہوا۔ Chaudhry نے اعلان کیا کہ جب تک حکومت ٹرانسپورٹرز کے مطالبات قبول نہیں کرتی اور انہیں عمل میں لانے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتی، ہڑتال جاری رہے گی۔

چیئرمین نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر بھی ٹرانسپورٹ کمیونٹی ملک کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط معیشت کے لیے دعا گو ہے۔

ماخذ نے مزید یہ نہیں بتایا کہ حکومت کی کون سی شاخ مذاکرات کر رہی ہے یا مطالبات کی تفصیل کیا ہے، اور نہ ہی کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ردعمل شامل کیا گیا ہے۔ ProPakistani نے کاروباری ڈیسک کے ذریعے یہ رپورٹ شائع کی۔

ہڑتال کے طویل دورانیے اور بڑے معاشی نقصان کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں، ترسیلات اور لاجسٹکس کے متعدد شعبوں میں خلل کی اطلاعات عام ہیں، تاہم اس رپورٹ میں صرف ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین کے تخمینے اور ان کے بیانات درج ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516