سسنگاپور پولیس فورس (ایس پی ایف) نے اعلان کیا کہ ٹرینٖ اے آٗئی کی اٹریبوشن انٹیلیجنس اور پاکستان کی نینشل سائبر کرائم اینویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)نے انٹرپول کے تعاون سے کیے گئے بین الاقوامی آپریشن میں ٹائیکون ٹو ایف اے سے منسلک دو مشتبہ افراد پنجاب سے گرفتار کر لیے جبکہ اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں مربوط چھاپوں کے دوران کمپیوٹر، سرور، موبائل ڈیوائسز اور ڈیجیٹل سٹوریج بھی ضبط کر لین تاہم چار مشتبہ افراد پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کے خلاف انٹر پول ریڈ نوٹس کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گرفتار دو ملزمان کے ساتھ کمپیوٹر، سرور، موبائل ڈیوائسز اور ڈیجیٹل اسٹوریج میڈیا ضبط کیے گئے جو مبینہ طور پر سائبر جرائم میں استعمال ہو رہے تھے۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ چار اضافی مشتبہ افراد چھاپوں سے قبل پاکستان سے فرار ہو گئے تھے اُن کے خلاگ انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواستیں زیرِ غور ہیں۔
ٹرینڈ اے آئی کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاریاں ٹائی کون ٹو ایف اے کے خلاف جاری طویل مدتی بین الاقوامی مہم کا اگلا مرحلہ ہیں۔ اِس سے پہلے اِس نے یورو پول اور مائیکروسافٹ کے علاوہ عالمی سائبرسیکیورٹی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اِس پلیٹ فارم کے بنیادی انفراسٹرکچر کو غیر فعال کرنے میں مدد دی تھی جس کے نتیجے میں 300 سے زائد جعلی ڈومینیں ضبط کی گئی تھیں۔
تحقیقات کا فوکس ٹائیکون برانڈ کے پیچھے فشنگ انفراسٹرکچر تیار کرنے اور چلانے والوں کی شناخت اور گرفتاری پر تھا۔ ٹرینڈ اے آئی کی جدید ایٹریبوشن انٹیلیجنس یورو پول کے ساتھ شیئر کی گئی اور متعدد دائرہ اختیار والے اداروں کی کارروائیوں کو مضبوط ثبوت فراہم کیے۔
سرچ میں کہا گیا ہے کہ ٹائیکون گروہ 2023ء میں سامنے آیا اور اِس کا شمار دنیا کے سب سے پیچیدہ پلیٹ فارموں میں ہوا۔ اِس خاص تکنیک کی ذریعے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو بائی پاس کر کے اسناد اور سرگرم سیشن چُرائی جاتی تھیں۔ تب سے یہ پلیٹ فارم 24 ہزار سے زائد فشنگ ڈومینوں اور مہمات سے منسلک رہا اور اِس نے خاص طور پر مائیکروسافٹ 365 اور گوگل صارفین کو نشانہ بنایا۔
این سی سی آئی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ ملزمان کی مبینہ غیرقانونی کمائی سے اسلام آباد میں خریدی گئی جائیداد کی ضبطی کے قانونی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
اس کامیاب تعاون نے مصنوعی ذہانت پرمبنی تھریٹ انٹیلیجنس اور سرحد پار تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جس کے بارے میں ٹرینڈ اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سطح پر حکومتوں، اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جاری رکھے گا۔




