ٹرمپ نے یورپی ممالک پر روسی توانائی خرید کر ماسکو کی جنگی آمدنی بڑھانے کا الزام لگا دیا

ٹرمپ نے روسی توانائی خریدنے پر یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن روسی ڈیزل معاہدے پر امریکی پالیسی بھی سوالات کی زد میں ہے۔ یورپ کے لیے توانائی اور سلامتی کا اہم امتحان۔

روسی توانائی یا مغربی اتحاد؟ ٹرمپ کے دباؤ نے یورپ کو مشکل فیصلے کے سامنے لا کھڑا کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک اور نیٹو اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ روس سے توانائی خرید کر یورپ بالواسطہ طور پر اسی جنگی معیشت کو مالی فائدہ پہنچاتا ہے جس کے خلاف مغربی ممالک یوکرین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ طرزِ عمل مغربی اتحاد کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

تاہم، اکتوبر 2026 میں ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل سے متعلق معاہدے کا دفاع اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ایندھن کی رسد بڑھانا اور قیمتیں کم کرنا ضروری ہے، جبکہ ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ روسی توانائی کی آمدنی میں اضافہ ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو سہارا دے سکتا ہے۔

یورپ کے لیے معاملہ محض سیاسی وفاداری کا نہیں بلکہ توانائی کی سلامتی، صنعتی مسابقت اور عوامی اخراجات کا بھی ہے۔ یورپی یونین نے روسی گیس کی درآمدات مرحلہ وار ختم کرنے اور 2027 کے اختتام تک روسی تیل کی درآمدات بند کرنے کے لیے قانونی اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، ہنگری اور سلوواکیہ جیسے ممالک روسی توانائی پر انحصار ختم کرنے کی رفتار اور طریقۂ کار پر تحفظات رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کا دباؤ یورپ کو ایک بنیادی سوال کا سامنا کراتا ہے: کیا روسی توانائی کی نسبتاً سستی فراہمی کو برقرار رکھا جائے یا طویل مدتی سلامتی کے لیے مہنگے متبادل قبول کیے جائیں؟ دوسری جانب، واشنگٹن کی اپنی روسی ڈیزل پالیسی پر اٹھنے والے سوالات امریکی مؤقف کی یکسانیت کو بھی بحث کا موضوع بناتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یورپ کے فیصلے نہ صرف روس کی توانائی آمدنی بلکہ نیٹو کے اندر اعتماد، یوکرین کی حمایت اور عالمی ایندھن کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356