ٹرمپ کا سائنس پاور کارڈ، ٹیکنالوجی کے بڑے نام وائٹ ہاؤس میں
“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات 8 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سائنس: ایک نیا سنہری دور سربراہی اجلاس میں دنیا کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے چند طاقتور ترین ناموں کو امریکہ کے اعلیٰ سائنسی اعزاز سے نوازنے والے ہیں۔” “ایلون مسک، گوگل کے شریک بانی سرگئی برِن، اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اور اے ایم ڈی کی سربراہ لیزا سو کو نیشنل میڈل آف سائنس دیا جائے گا۔” یہ امریکہ کا سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے میں سب سے بڑا قومی اعزاز ہے، جو 1959 میں کانگریس نے قائم کیا تھا۔
اس موقع پر مائیکل ڈیل اور مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا کو قومی تمغہ برائے ٹیکنالوجی و جدت دیا جائے گا، جو امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز ہے۔
“اس تقریب کا اصل پیغام صرف اعزازات نہیں بلکہ امریکہ کی نئی ٹیکنالوجیکل اسٹریٹیجی ہے۔” ٹرمپ انتظامیہ سائنس، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، خلائی ٹیکنالوجی اور سپر انٹیلی جنس کو امریکی عالمی طاقت کے بنیادی ستونوں کے طور پر پیش کررہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی نئی سائنس پالیسی میں تحقیق کے روایتی سرکاری ماڈل کے بجائے نئے ادارہ جاتی اور مالیاتی طریقوں، نجی شعبے کی شراکت اور AI سے تحقیق کی رفتار بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
“مسک، برِن، ہوانگ اور سو کا ایک ہی پلیٹ فارم پر اعزاز امریکی ریاست اور نجی ٹیکنالوجی کی طاقت کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی علامت ہے۔” خاص طور پر AI کی عالمی دوڑ میں اینویڈیا ، اے ایم ڈی، اسپیس ایکس اور گوگل جیسی کمپنیوں کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ واشنگٹن یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ ٹیکنالوجیکل برتری اب قومی سلامتی اور عالمی معاشی طاقت کا حصہ ہے۔




