ترکیہ اول، پاکستان دوم؛ فوجی (ایف پی وی) ڈرون مقابلے میں شاندار کامیابی
انقرہ،(ویب ڈیسک) رپورٹ 25 اکتوبر 2026 — ترکیہ کی بری افواج کے زیرِ اہتمام پہلی بین الاقوامی فوجی ڈرون ٹیم چیمپئن شپ میں میزبان ترکیہ نے پہلی جبکہ پاکستان نے دوسری پوزیشن حاصل کرکے اپنی مہارت کا نمایاں مظاہرہ کیا۔ انقرہ کے علاقے تملی میں منعقدہ مقابلے میں 18 ممالک کی 22 ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میں چار ٹیموں نے جگہ بنائی، جہاں ترکیہ اور پاکستان نے بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔
23 رکاوٹیں، رفتار اور درست کنٹرول کا امتحان
فائنل میں ہر ٹیم تین فوجی اہلکاروں پر مشتمل تھی، جن میں کم از کم دو (ایف پی وی) ڈرون پائلٹ شامل تھے۔ ٹیموں کو 23 رکاوٹوں پر مشتمل دشوار گزار کورس کم سے کم وقت میں مکمل کرنا تھا۔ ترکیہ کی ٹیم نے یہ مرحلہ 41.417 سیکنڈ میں مکمل کیا، جبکہ پاکستانی ٹیم نے 50.253 سیکنڈ میں کورس طے کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ مقابلے میں رفتار، ڈرون کی سمت پر قابو اور رکاوٹوں کے درمیان درست نقل و حرکت بنیادی اہمیت کے حامل تھے۔
تکنیکی پہلو: (ایف پی وی) ڈرون جنگ میں کیوں اہم ہیں؟
(ایف پی وی) یعنی فرسٹ پرسن ویو ڈرون میں پائلٹ عموماً کیمرے سے حاصل ہونے والی براہِ راست ویڈیو کو چشمے یا اسکرین پر دیکھ کر پرواز کو کنٹرول کرتا ہے۔ کم تاخیر والی ویڈیو، تیز ردِعمل، درست سمت شناسی اور پائلٹ کی ہاتھ اور آنکھ کے درمیان ہم آہنگی ایسے مقابلوں میں اہم عوامل ہیں۔ میدانِ جنگ میں اسی نوعیت کے چھوٹے ڈرون نگرانی، اہداف کی شناخت اور بعض صورتوں میں حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں؛ تاہم، ریس میں بہترین کارکردگی لازماً حقیقی جنگ میں برتری ثابت نہیں کرتی، کیونکہ وہاں الیکٹرانک جیمنگ، مواصلاتی رکاوٹیں، موسم اور دشمن کے دفاع جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔پاکستان کی دوسری پوزیشن فوجی ڈرون پائلٹنگ اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کے حوالے سے مثبت اشارہ ہے۔ ایسے مقابلے تربیت، تکنیکی تجربات کے تبادلے اور مختلف افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ترکیہ کی پہلی اور پاکستان کی دوسری پوزیشن جدید بغیر پائلٹ نظاموں میں مہارت کی بڑھتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مستقبل کی کامیابی کے لیے پائلٹ کی مہارت کے ساتھ ٹیکنالوجی، تربیت اور الیکٹرانک جنگ سے نمٹنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوگی۔




