ترکیہ حوثیوں کے ساتھ کسی تصادم کی توقع نہیں رکھتا: وزیر دفاع یاشار گولر

ترکی کا کہنا ہے کہ ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت سعودی عرب کے لیے اس کی ممکنہ حمایت کا مرکز ’ڈیٹرنس‘ (جارحیت روکنے کی صلاحیت)، فضائی دفاع اور علاقائی استحکام ہوگا—نہ کہ حوثیوں کے ساتھ براہِ راست جنگ۔

مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی دفاع مضبوط، مگر ترکیہ حوثیوں سے براہِ راست جنگ نہیں چاہتا

انقرہ،(ویب ڈیسک) رپورٹ 24 اکتوبر 2026 — ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاشار گولر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ فوجی معاونت کا مقصد یمن کے حوثیوں کے ساتھ جنگ میں شامل ہونا نہیں، بلکہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور علاقائی بازدارندگی کو مضبوط بنانا ہے۔ گولر کے مطابق، سعودی عرب کی درخواستوں کا جائزہ ترکیہ کی پارلیمان سے معاہدے کی منظوری اور ضروری قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد لیا جائے گا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی شہروں کو میزائل حملوں کے خطرات کا سامنا ہے اور خطے میں فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے دستخط کیا تھا۔ اس کی بنیادی شقوں کے مطابق، کسی رکن ملک پر بیرونی مسلح حملے کی صورت میں دیگر فریق دفاعی معاونت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کا تصور نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم دونوں معاہدوں کے قانونی ڈھانچے اور عملی طریقۂ کار کو یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔ معاہدے میں انٹیلی جنس کا تبادلہ، دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ تربیت اور لاجسٹک معاونت بھی شامل ہیں۔ 24 اکتوبر تک پاکستان اور سعودی عرب توثیق مکمل کر چکے تھے، جبکہ ترکیہ میں پارلیمانی منظوری کا عمل جاری تھا۔

تکنیکی پہلو: میزائل دفاع اور بازدارندگی

حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں فضائی نگرانی، ریڈار نیٹ ورک، میزائل روکنے کے نظام، الیکٹرانک جنگ اور بروقت انٹیلی جنس اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسی معاونت حملوں کو ناکام بنانے اور مخالف فریق کے لیے حملے کی لاگت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے، مگر مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔ دفاعی نظام کے ساتھ کمانڈ اینڈ کنٹرول، اتحادی افواج کے درمیان رابطہ اور ہدف کی درست شناخت بھی ضروری ہیں۔

پاکستان کے لیے کیا معنی ہیں؟

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کرنے اور ترکیہ کے ساتھ عسکری تعاون بڑھانے کا موقع ہے۔ تاہم، کسی مخصوص فوجی تعیناتی یا کارروائی کا فیصلہ معاہدے کی شقوں، قانونی تقاضوں اور تینوں ممالک کی مشاورت کے مطابق ہوگا۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356