امریکہ کا افغانوں کو پاکستان کے راستے طالبان کے حوالے کرنے کا منصوبہ؟ 150 سے زائد افراد کی ملک بدری کی تیاری، واشنگٹن کے فیصلے سے خطے میں انسانی حقوق کا نیا بحران!“
واشنگٹن/اسلام آباد، (ویب ڈیسک) یکم نومبر 2026 — امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ درجنوں افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کرکے پاکستان کے راستے افغانستان بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لوزیانا میں حراست میں رکھے گئے افغان شہریوں کو پہلے پاکستان منتقل کیا جائے گا، جہاں سے انہیں سرحد پار افغانستان بھیجے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے 150 سے زائد افراد کی ممکنہ ملک بدری کا ذکر کیا گیا ہے، جو افغانوں کی بڑی اجتماعی بے دخلیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں ایسے افغان بھی شامل ہیں جن کے رشتہ داروں نے افغانستان میں امریکی فوج کی معاونت کی تھی، جبکہ کم از کم ایک ہم جنس پرست افغان شہری بھی زیرِ حراست افراد میں بتایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ طالبان حکومت کے تحت ان افراد کو امتیازی سلوک، انتقامی کارروائیوں یا ظلم و تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ مجوزہ ملک بدری میں شامل ہر شخص کے پاس امریکی عدالتوں سے حاصل کردہ قانونی تحفظ موجود ہے یا نہیں۔
امریکہ کے طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث براہِ راست افغانستان واپسی کا انتظام پیچیدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو عبوری راستے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس سے اسلام آباد ایک حساس سفارتی اور انسانی حقوق کے معاملے کے مرکز میں آ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی 2023 سے لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی یا بے دخلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔
بین الاقوامی قانون میں واپسی سے تحفظ کا اصول کسی شخص کو ایسے ملک واپس بھیجنے سے روکتا ہے جہاں اسے تشدد یا ظلم و ستم کا حقیقی خطرہ ہو۔ کسی تیسرے ملک کے ذریعے منتقلی بھی اس ذمہ داری کو خودبخود ختم نہیں کرتی؛ ہر فرد کے خطرات اور قانونی تحفظات کا جائزہ ضروری ہے۔ امریکی حکام نے آئندہ آپریشنز پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے اس منصوبے پر باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو واشنگٹن، اسلام آباد اور کابل کے درمیان انسانی حقوق، سرحدی انتظام اور سفارتی ذمہ داریوں کا ایک نیا تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔




