ایران سے خطرے کے پیشِ نظر امریکہ نے (آر اے ایف) فیئر فورڈ سے بی۔ون۔12 بمبار طیارے واپس بلا لیے

برطانیہ میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ (RAF Fairford) پر تعینات تمام 12 بی-1 بی (B-1B) بمبار طیاروں کو، اس اڈے کو نشانہ بنانے کی ایک مشتبہ سازش کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافے کے پیشِ نظر، فوری طور پر واپس بلا لیا گیا ہے۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ یہ بمبار طیارے امریکہ میں اپنے متعلقہ اڈوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔

(آر اے ایف) فیئرفورڈ سے 12 B-1 بمباروں کی اچانک واپسی: ایران کا ممکنہ خطرہ یا سٹریٹجک احتیاط؟

“امریکا نے برطانیہ کے (آر اے ایف) فیئرفورڈ اڈے سے اپنے تمام 12 B-1B بمبار طیارے اچانک واپس امریکا منتقل کردیے ہیں، جسے تازہ سکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ فیئرفورڈ پر تعینات تمام امریکی بمبار اپنے ہوم اسٹیشنز پر واپس پہنچ گئے ہیں، تاہم آپریشنل سکیورٹی کے باعث انخلا کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔”

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی حکام نے فیئرفورڈ کے قریب مبینہ دہشت گرد منصوبے کے سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ایرانی کردار کے “مضبوط اشارے” موجود ہیں، جبکہ ایران نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ برطانوی پولیس نے پانچ افراد کو ابتدائی طور پر گرفتار کیا تھا، جبکہ بعد میں ایک برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا۔

فیکٹ چیک: کیا واقعی ایران نے حملے کا حکم دیا تھا؟

یہاں احتیاط ضروری ہے۔ دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران براہِ راست اس منصوبے کے پیچھے تھا۔ برطانوی حکام نے ممکنہ ایرانی تعلق کی بات کی ہے، جبکہ تہران نے ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ گرفتار افراد بھی ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ لہٰذا “ایران نے حملے کا حکم دیا” کو فی الحال حتمی حقیقت کے بجائے تحقیقاتی دعویٰ سمجھنا چاہیے۔

تاریخی تناظر: فیئرفورڈ کیوں اہم ہے؟

(آر اے ایف) فیئرفورڈ طویل عرصے سے امریکی طویل فاصلے کے بمبار آپریشنز کا اہم یورپی مرکز رہا ہے۔ 2026 میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران یہاں B-1 اور B-52 طیاروں کی تعیناتی نے اس اڈے کی سٹریٹجک اہمیت مزید بڑھا دی۔ فیئرفورڈ سے آپریشن کرنے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ امریکی بمباروں کو براعظم امریکا سے ایران تک طویل پرواز کرنے کے مقابلے میں کم فاصلہ، کم ری فیولنگ اور زیادہ پروازوں کی گنجائش حاصل ہوتی ہے۔

اسی لیے تمام B-1 طیاروں کی ایک ہی دن میں واپسی محض معمول کی دوبارہ تعیناتی نہیں دکھائی دیتی۔ تاہم امریکا نے واضح کیا ہے کہ بمبار اب بھی امریکی سرزمین سے عالمی سطح پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اصل پیغام یہ ہوسکتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، مگر دوسری طرف ایک ایسے اڈے پر مہنگے اور حساس سٹریٹجک اثاثے رکھنے کا خطرہ نہیں لینا چاہتا جو ممکنہ طور پر ایرانی جوابی کارروائی یا پراکسی حملے کا ہدف بن سکتا ہے۔

یہ انخلا امریکی کمزوری سے زیادہ فورس پروٹیکشن اور سٹریٹجک رسک مینجمنٹ کی علامت بھی ہوسکتا ہے—خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے خلاف جنگ طویل ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356