زیلنسکی کا امریکہ پر مدد میں سُستی کا الزام، روسی حملوں سے دو دن میں 78 ہلاکتیں، 215 زخمی

زیلنسکی نے امریکہ سے فوری طور پر اسٹارلِنک کی رسائی بڑھانے اور روسی فضائی حملوں کے خلاف مدد کا مطالبہ کیا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسٹارلِنک کی رسائی بڑھانے اور روسی فضائی حملوں سے بڑھتے ہوئے نقصانات کے پیش نظر فوری مدد کا مطالبہ کیا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی حکومت پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ روسی فوجی حملوں کے خلاف مناسب ردعمل نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف چار دن پہلے روس نے مشرقی شہر کرامیتورسک میں ایک بس پر بمبار حملہ کیا جس سے کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے اور مجموعی طور پر دو دن میں 78 افراد کی جانیں گئیں اور 215 افراد زخمی ہوئے۔

زیلنسکی نے اس موقع پر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیوس کے اسٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی صرف اقتصادی مفادات کے پیچھے ہے اور اس کے باعث جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے امریکی اسٹارلِنک سروس کو بڑھانے کی فوری درخواست کی تاکہ روسی بالیسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

صدر زیلنسکی نے کہا، “اسٹارلِنک کو یوکرین کے لیے کھولیں۔ آپ نے پہلے ایران کے خلاف اسے کھولا تھا۔ ہمیں آسمان کی دفاع میں مدد دیں تاکہ ہم روس کے خلاف مؤثر ردعمل دے سکیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “جہاں ایک طرف روس کے ساتھ معاشی منصوبے بنائے جا رہے ہیں، دوسری طرف جنگ کی سچائی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔”

یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب روس کی جانب سے مسلسل ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں، جن میں سے ایک میں کرامیتورسک میں دو بسوں پر بومبار حملہ ہوا جس سے 35 افراد کی جانیں گئیں۔ مقامی حکام نے مزید بتایا کہ ڈنائی پروٹرووسک کے ایک گاؤں اور ایوانو-فرانکیوِسک کے ایک شہر میں بھی اسی طرح کے حملے ہوئے جن میں مزید ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2802