تعز میں حوثی سکیورٹی کے دو اہم عہدیدار ہلاک؛ باب المندب پر قبضے کی جنگ مزید خطرناک
صنعاء،(ویب ڈیسک) 31 اکتوبر 2026 — یمن کے صوبہ تعز میں شدید جھڑپوں کے دوران حوثی تحریک کے دو اہم سکیورٹی عہدیدار ابراہیم زید علی النونو اور بریگیڈیئر ابو عبداللہ عادل السفیانی کی ہلاکت کی اطلاعات نے جنگ کے نئے مرحلے کی نشاندہی کر دی ہے۔ دونوں صنعاء میں پولیس محکموں کے سربراہ تھے اور اطلاعات کے مطابق انہیں دارالحکومت سے تعز کے محاذ پر تعینات کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کی آزادانہ تصدیق اور درست حالات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
النونو ابو علی عامر پولیس ڈیپارٹمنٹ جبکہ السفیانی الوہج پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بتائے جاتے ہیں۔ ان کی اہمیت حوثی تحریک کے مقامی سکیورٹی انتظام، اہلکاروں کی نگرانی اور داخلی نظم و ضبط سے جڑی تھی۔ ایسے افسران کی محاذ پر تعیناتی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ حوثی قیادت کو میدانِ جنگ میں اضافی افرادی قوت اور انتظامی معاونت درکار ہے۔ تاہم، انہیں حوثی میزائل یا ڈرون پروگرام کے اعلیٰ ترین کمانڈرز قرار دینے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔
تعز محض ایک شہر نہیں بلکہ جنوبی یمن کی اہم زمینی گزرگاہوں اور عدن تک رسائی کا مرکز ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی نے تعز کے سرکاری فورسز کے زمینی رابطوں اور باب المندب کے قریب فوجی توازن کو خطرے میں ڈالا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی کارروائیاں اسی اسٹریٹجک دباؤ کا حصہ ہیں۔
ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں حوثیوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ باب المندب پر دباؤ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے لیے یہ راستہ محفوظ بنانا فوجی اور معاشی ترجیح ہے۔ ان دو عہدیداروں کی ہلاکت حوثی سکیورٹی ڈھانچے کے لیے نقصان ہے، مگر جنگ کا فیصلہ کن موڑ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا سعودی حمایت یافتہ فورسز تعز میں رسد کے راستے کھول کر باب المندب کے اطراف حوثی دباؤ کم کر سکتی ہیں یا نہیں۔




