عالمی یہودی کانگریس کے سربراہ رونالڈ لاؤڈر کا اسرائیل واپسی سے انکار
یروشلم، (ویب ڈیسک) 30 اکتوبر 2026 — عالمی یہودی کانگریس کے صدر اور ارب پتی امریکی کاروباری شخصیت رونالڈ ایس لاؤڈر نے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو سے اپنی طویل سیاسی و ذاتی قربت ختم ہونے کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے: ’’میرا اسرائیل واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں، بالکل نہیں۔‘‘ ہاآرتز کو دیے گئے انٹرویو میں ان کے یہ الفاظ اسرائیلی سیاست اور عالمی یہودی برادری کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ لاؤڈر نے نتن یاہو کو دوبارہ منتخب کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا ہے۔لاؤڈر صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں؛ وہ مشہور (ایستی لاڈر) خاندان کے وارث، سابق امریکی سفارت کار اور 2007 سے عالمی یہودی کانگریس کے صدر ہیں۔ صدر رونالڈ ریگن کے دور میں وہ آسٹریا میں امریکی سفیر بھی رہے۔ دہائیوں تک نتن یاہو کے قریبی دوست اور مشیر سمجھے جانے والے لاؤڈر نے ان کے سیاسی سفر کے ابتدائی مراحل میں امریکی سیاسی رابطے بنانے میں مدد دی تھی۔
دوستی کیوں ٹوٹی؟
لاؤڈر کے مطابق، تعلقات میں دراڑ ذاتی اختلافات سے شروع ہوئی، لیکن اصل فیصلہ کن موڑ 1990 کی دہائی میں شام کے صدر حافظ الاسد کے ساتھ خفیہ امن مذاکرات تھے۔ لاؤڈر کا دعویٰ ہے کہ نتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق ممکنہ سمجھوتے پر سیاسی مستقبل کو ترجیح دی اور معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا۔ یہ لاؤڈر کا بیان ہے، کوئی آزادانہ طور پر ثابت شدہ معاہدہ نہیں۔ انہوں نے نتن یاہو پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے، انتہا پسند اتحادیوں کو جگہ دینے اور امریکہ و یورپ میں اسرائیل کی حمایت کھونے کا الزام بھی لگایا۔
اسرائیل سے دوری کا وسیع تر مطلب
لاؤڈر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں اپنی جائیدادیں فروخت یا عطیہ کر دی ہیں اور اب وہاں واپسی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے خدشات میں امریکی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت میں کمی اور عالمی یہودی برادری کی اسرائیلی قیادت سے بڑھتی ہوئی دوری شامل ہے۔ وہ اسرائیل سے اپنی وابستگی برقرار رکھنے کے باوجود گادی آئزنکوٹ کو بہتر سیاسی انتخاب سمجھتے ہیں۔لاؤڈر کا بیان اسرائیل کے لیے سفارتی اور سیاسی انتباہ ہے: داخلی سیاست کے فیصلے اب صرف کنیسٹ تک محدود نہیں، بلکہ واشنگٹن، یورپ اور عالمی یہودی برادری میں اسرائیل کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔




