نتن یاہو کی اقتدار بچانے کے لیے آئزنکوٹ کو وزارتِ عظمیٰ میں باری دینے کی تجویز، عرب جماعتوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش

نیتن یاہو کی متحدہ حکومت 2026، گاڈی آئزن کوٹ، اسرائیل کے انتخابی نتائج، نیتن یاہو کی گردش کی پیشکش، اسرائیل اتحاد کا بحران، یاشار پارٹی، حریدی بھرتی قانون، اسرائیلی کنیسٹ اکثریت، 2026 اسرائیلی سیاست، انتخابات کے بعد کے مذاکرات۔

نتن یاہو کی گادی آئزنکوٹ کو وزارتِ عظمیٰ میں باری دینے کی تجویز، اسرائیل میں اتحاد کی نئی بساط

یروشلم، (ویب ڈیسک) 30 اکتوبر 2026 — اسرائیل کے غیر فیصلہ کن عام انتخابات کے بعد وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو کے قریبی حلقوں میں ایک غیر معمولی سیاسی منصوبہ زیرِ بحث ہے، جس کے تحت لیکوڈ اور گادی آئزنکوٹ کی جماعت یاشار پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ دی یروشلم پوسٹ کے مطابق، اس تجویز میں آئزنکوٹ کو وزارتِ عظمیٰ کی مدت میں باری دینے یعنی پاور شیئرنگ کی پیشکش بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ فی الحال سیاسی حلقوں میں زیرِ گردش منصوبہ ہے، نتن یاہو کی باضابطہ پیشکش یا طے شدہ معاہدہ نہیں۔ آئزنکوٹ پہلے ہی نتن یاہو کے ماتحت حکومت میں شامل ہونے، حتیٰ کہ وزارتِ عظمیٰ کی باری کے فارمولے کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔

پارلیمانی ریاضی: 61 نشستوں کا چیلنج

120 رکنی اسرائیلی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ حتمی نتائج کے مطابق نتن یاہو کے بلاک کو 53، آئزنکوٹ کے حامی اپوزیشن بلاک کو 48 اور عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملی ہیں۔ اس تقسیم نے کسی ایک سیاسی کیمپ کے لیے تنہا حکومت بنانا مشکل بنا دیا ہے۔

حریدی جماعتیں، فوجی بھرتی اور سیاسی حکمتِ عملی

لیکود سے وابستہ شخصیات کے زیرِ بحث منصوبے میں ابتدا میں انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں (حریدی) کو حکومت سے باہر رکھنے کی تجویز ہے، تاکہ فوجی لازمی بھرتی کے قانون پر پیش رفت ممکن ہو۔ حریدی جماعتوں کو فوجی خدمت سے استثنا دینے کا معاملہ اسرائیل میں طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی تنازع ہے۔ اس مسئلے پر اتفاقِ رائے کے بغیر نئی حکومت کی قانون سازی اور استحکام مشکل ہو سکتا ہے۔

عرب جماعتوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش؟

یہ فارمولا عرب جماعتوں کی پارلیمانی حمایت پر انحصار کم کرنے کی سیاسی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان جماعتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا آئینی و پارلیمانی طور پر ممکن تو ہے، مگر اس کے لیے دونوں بڑے یہودی سیاسی کیمپوں کے درمیان قابلِ عمل معاہدہ اور نشستوں کی واضح اکثریت ضروری ہوگی۔ نتن یاہو کی اصل آزمائش صرف حکومت بنانا نہیں بلکہ آئزنکوٹ کے عدم تعاون کے اعلان، حریدی جماعتوں کے دباؤ اور فوجی بھرتی کے تنازع کے درمیان قابلِ اعتماد اکثریت تشکیل دینا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 358