ایران امریکہ جنگ بندی ہو گئی؟؟؟
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کے حملے روکنے کے بعد ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر جوابی کارروائیاں روک دی ہیں؛ یہ وقفہ دو ہفتے کی کشیدگی کے بعد آیا۔

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے حملے روکنے جانے کے بعد ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کا کہنا تھا کہ ایرانی حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی رہی ہے اور چونکہ امریکہ حملے نہیں کر رہا اِس لیے اُس نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں بھی روک دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک دوبارہ جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے وقفے نے مذاکرات کی طرف واپسی کی اُمیدیں دوبارہ زندہ کر دی ہیں تاہم امریکی ذرائع ابلاغ نے اِس وقفے کی وجہ دفاعی نظام اور ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے معاملے سے باخبر دو افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مہم کو مزید بڑھانے کے منصوبے جزوی طور پر پیٹریاٹ انٹرسیپٹروں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث روک دیے گئے ہیں۔
ابھی کسی طرف سے اگرچہ باضابطہ سفارتی پہل یا مذاکرات کے آغاز کے بارے میں تفصیلی اعلان نہیں ہوا تاہم حالات کے موجودہ رُخ سے خطے میں تازہ کشیدگی کم ہونے اور فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکراتی راستے کی بحالی کی اُمید ضرور پیدا ہوئی ہے تاہم چونکہ صورتِحال مکمل طور پر واضح نہیں اِس لیے پیشرفت محتاط طور پر ہی دیکھی جا رہی ہے۔



