نئے صوبوں کی ڈیڈ لائن، موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے: محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی و حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی و حکومتی نظام ناکام ہو چکا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے۔ پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر نئے صوبوں، انتظامی اصلاحات اور آئینی معاملات پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ڈھانچے کے ساتھ ملک کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہو سکتے اور عوام تک مؤثر حکمرانی پہنچانے کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ ان کے بیان کے بعد ملک میں نئے صوبوں سے متعلق سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے

Deadline for New Provinces: ‘The System Has Failed’ — Mohsin Naqvi

ISLAMABAD: Interior Minister Mohsin Naqvi has called for a national consensus on creating new administrative units and provinces, arguing that Pakistan’s existing governance system has “collapsed” and is no longer capable of addressing public issues effectively. Speaking at the Pakistan Economic Summit 2026, Naqvi urged all political parties to sit together and decide on long-term constitutional and administrative reforms, warning that without structural changes the country would continue facing the same governance challenges for years. He said creating new provinces or administrative units would bring government closer to the people and improve service delivery. The proposal comes amid an ongoing national debate over governance, administrative efficiency and provincial representation.

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 64