وفاقی حکومت نے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا
وفاقی حکومت نے صوبائی ضروریات پوری کرنے اور بازار استحکام کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ دعویٰ تھا کہ پیداواری ذخائر وافر ہیں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ حکومت صوبوں کی ضروریات پوری کرنے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی اور پاسکو کے ذخائر صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ چند ہوفتے قبل حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں گندم کی قلت نہیں۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال ملک میں تقریباً تین کروڑ ٹن گندم پیدا ہوئی جو گزشتہ برس سے 13 لاکھ 60 ہزار ٹن زیادہ بتائی گئی لیکن اِس کے باوجود وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے دو ہفتے قبل یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گندم کی کوئی قلت نہیں، گندم کے وافرذخائر موجود ہیں۔
فلور ملز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں کم از کم 10 لاکھ ٹن گندم کی کمی موجود ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پنجاب) کے چیئرمین ریاض اللہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ درآمد کی تجویز فلور ملز ہی نے حکومت کو دی تھی، اگلی فصل آنے میں تقریباً آٹھ ماہ باقی ہیں جبکہ گندم کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے۔ ریاض اللہ خان نے سرکاری خریداری ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملی جس کے باعث کم گندم کاشت ہوئی۔
سندھ حکومت اِس مسئلے کی ایک مختلف وجہ بتاتی ہے۔ سندھ تفتیشی حکام کا کہنا ہے ہے کہ اُن کا صوبہ اِسوقت تقریباً 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے اُس نے وفاق اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کے مطابق مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے، بڑے تاجروں نے گندم روکی ہوئی ہے جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی، اِسی لیے سندھ حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے، گوداموں پر چھاپے اور جرمانے کیے جا رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے اُن کی پیداوار اِس سال تقریباً 15 فیصد کم رہی تاہم اِس کا حل بیرونِ ملک سے گندم خریدنا نہیں بلکہ مقامی کسان کو سہولت دینا ہے، کھاد، ڈیزل پر سبسڈی، بہتر امدادی قیمت اور زرعی لاگت میں کمی کی جائے تو پاکستان اپنی ضرورت خود پیدا کر سکتا ہے۔



