امریکہ۔ایران کشیدگی میں نیا محاذ، حوثیوں کے سعودی آئل تنصیبات پر حملوں سے خطے میں خطرے
ریاض: یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزی

ریاض: یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے ایک نئے محاذ کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اہم آئل انفراسٹرکچر پر حملوں کا سلسلہ بڑھا تو نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں وسیع پیمانے پر فوجی کشیدگی بھی جنم لے سکتی ہے۔ سعودی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
New Front Opens in U.S.-Iran Conflict as Houthis Target Saudi Oil Facilities
RIYADH: Regional tensions have intensified after Yemen’s Houthi movement reportedly launched attacks targeting Saudi oil facilities, opening what analysts describe as a new front in the escalating confrontation between the United States and Iran. The incident comes amid heightened military activity and growing instability across the Middle East. Security experts warn that attacks on critical energy infrastructure could disrupt global oil markets, threaten regional stability, and increase the risk of a broader conflict involving multiple regional actors. Saudi authorities are assessing the damage, while international observers continue to monitor developments closely.



