ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی کی بڑھتے امریکہ۔ایران تناؤ کے درمیان اسلام آباد آمد
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعاون مزید مظبوط کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے جہاں اُن کی پاکستانی ہم منصب محسن نقوی سے مالاقات ہوئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعاون مزید مظبوط کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے جہاں اُن کی پاکستانی ہم منص محسن نقوی سے مالاقات ہوئی۔
ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی 20 جولائی 2026 کو اسلام آباد پہنچے تاکہ دو طرفہ تعاون مضبوط کرنے کے علاوہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر سفارتی ہم آہنگی کو مربوط کیا جا سکے۔ مومنی کا استقبال پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا اور مومنی کی وزیرِِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ملاقاتوں کا محور سرحدی سیکیورٹی، خطّے کا بدلتا ہوا سیکیورٹی منظرنامہ اور جاری سفارتی رابطہ کاری ہوں گے۔
سکندر مومنی ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب امریکہ اور ایران میں گھمسان کا رن جاری ہے، دونوں ایک وسرے پر حملہ آور ہیں، ایک دوسرے پر گولہ نارود برسا رہے ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ چند روز کی جنگ بندی کی تجاویز کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ مجوزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت 14 نکاتی فریم ورک پر غور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی سے 18 جون کو امریکہ اوت ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اِس یادداشت کو کا مقصد دونوں ممالک میں دشمنی کو کم کرنا، آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کی بحالی اور وسیع مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اِس معاہدے کا تسلسل اُسوقت ٹوٹ گیا جب ایران کی طرف سے یمنی ساحل کے قریب سے گزرنے والے چار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی گئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو ختم قرار دے یا۔ اِس کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی صورتحال کو جنگ کا آغاز قرار دے دیا تھا۔ تہران نے واشنگٹن پر اسلام آباد کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جبکہ امریکہ ایران کو قصور وار ٹہراتا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطے بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، اور پاکستانی حکام سمیت دیگر ثالث امید کرتے ہیں کہ یہ چینلز دوبارہ مذاکرات کھولنے کے لیے برقرار رہ سکتے ہیں۔
نئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر ڈالا، خام تیل کی قیمتیں ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، جس کا سبب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات بتائے جاتے ہیں۔ ایران نے آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری نقل و حمل پر عائد پابندیاں دوبارہ لاگو کر دی ہیں جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے اضافی اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان نے اس سال کے آغاز میں ایران پر مبنی جارحیت کے بعد سے خود کو خطّے میں ثالث کے طور پر پیش کرنا تیز کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ مومنی اُن پاکستانی ثالثوں سے بھی مشاورت کریں گے جنہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے عارضی جنگ بندی کو یقینی بنانے میں مدد کی تھی۔


