پنجاب سے 45 لاکھ ٹن گندم لاپتہ، سندھ کی چھ لاکھ ٹن ریکارڈ سے غائب

حکومتی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پنجاب سے 45 لاکھ اور سندھ کے ریکارڈ سے چھ لاکھ ٹن گندم لاپتہ ہے؛ ذخیرہ اندوزی اور درآمدی بل ایک ارب ڈالر تک بڑھنے کے خدشات سامنے آئے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی میڈیا کے مطابق 27 جولائی 2026ء کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے حکومتی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پنجاب کی گندم کے ذخائر میں 45 لاکھ ٹن گندم غائب ہے جبکہ سندھ کے سرکاری ریکارڈ میں چھ لاکھ ٹن گندم کا پتہ پہی نہیں چل رہا۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس کے دوران پنجاب کے حکام نے دیگر صوبوں سے استفسار کیا کہ آیا یہ گندم صوبے سے باہر بھیجی گئی تو کیا کسی صوبے نے ایسی کوئی بڑی مقدار وصول کرنے سے انکار کیا؟

اجلاس میں موجود میڈیا ذرائع نے بتایا کہ صوبائی بے قاعدگیوں کی غیر موجودگی اور وصولی کے ثبوت نہ ملنے پر حکام نے ذخیرہ اندوزی کا خدشہ ظاہر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر معاملات کی بروقت تحقیقات نہ ہوئیں اور عوام کو دی جانے والی گندم ناکافی رہی تو پاکستان کا گندم درآمدی بل ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

حکومت نے گندم کی امدادی قیمت سارحے تین ہزار روپے من مقرر کر رکھی ہے لیکن نجی شعبے نے اِس قیمت پر خریداری میں دلچسپی کم دکھائی۔ پنجاب حکومت نے نجی خریداروں کو ترغیبی پیکج بھی دیا تاکہ خریداری میں اضافہ ہو سکے تاہم نجی شعبہ بینک فنانسنگ تک رسائی کا مطالبہ کرتا رہا تاکہ فصل کی خریداری کی فنانسنگ ممکن بنائی سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فصل کی کٹائی کے آغاز پر سندھ اور خیبر پختونخوا میں گندم کی قیمتیں ساڑھے چار ہزار رپوے فی من تک جا پہنچی تھیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اُسوقت ذخیرہ اندوز ممکنہ طور پر بڑی مقدار میں گندم براہِ راست کسانوں سے بغیر اجازت یا ٹیکس دستاویزات کے خرید کر ذخیرہ کر رہے تھے۔

ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سے تین برسوں میں پنجاب نے حکومت کی براہِ راست خریداری سے قدم پیچھے کر کے نجی شعبے پر زیادہ انحصار شروع کر دیا ہے جس سے سرکاری سٹاک کی حکمتِ عملی کمزور ہوئی۔

حیران کُن اَمر یہ ہے کہ اِس سططح کی کمی کے باوجود کوئی سرکاری تفتیشی رپورٹ یا حتمی نتائج جاری نہیں کیے گئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46