پاکستان چھ ماہ سے ایک سال تک پولیو کی منتقلی روک سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت
WHO کی علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنان بلخی نے کہا ہے کہ پاکستان اگلے 6 تا 12 ماہ میں پولیو کی منتقلی روکنے کا حقیقی موقع رکھتا ہے بشرطیکہ مہمات میں شدت لائی جائے۔

اسلام آباد (مانیٹڑنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنان بلخی نے کہا کہ اگر پاکستان آئندہ چھ سے 12 ماہ میں اپنے اقدامات تیز کرے تو وہ پولیو کی منتقلی روکنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان دنیا کے صرف دو اُن ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو بیماری اب بھی مقامی سطح پر پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ہنان بلخی نے یہ بیان جب پولیو اوور سائٹ بورڈ کی ایک ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں اِس وباء کو ختم کرنا اب ممکنہ حد تک قریب ہے بشرطیکہ کوششیں مربوط اور مستقل ہوں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اندازاً 20 ہزار کیسوں سے پولیو کے واقعات کو 99.8 فیصد کم کر کے 2025ء میں 31 کیسوں تک کم کر لیا جبکہ 2026ء میں اب تک اِس کے صرف تین کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ملک بھر میں بار بار ہونے والی قومی ویکسینیشن مہموں کا نتیجہ ہے جن میں بچوں کو مسلسل خوراکیں دی جاتی ہیں۔
پاکستان کا پولیو ردِعمل طبی شواہد پر مبنی ہے اور دنیا کے سب سے بڑے اور حساس پولیو نگرانی نیٹ ورک اِسے جانچتا ہے۔
پاکستان کے پولیو انسدادی پروگرام کو غلط اطلاعات ، ویکسین کے خلاف مزاحمت اور بعض مذہبی سخت گیر حلقوں کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے کیونکہ یہاں ویکسین کو غیر ملکی سازش یا جاسوسی کا بہانہ قرار دیا جاات رہا۔ عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ویکسینیشن ٹیموں پر حملوں کی وجہ سے حکومت نے حفاظتی اہلکار تعینات کیے مگر خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مہلک حملے اج بھی جاری ہیں۔



