بحیرۂ احمر بحران میں چین کی طویل المدتی حکمتِ عملی نمایاں، تجارتی راستے بدستور فعال
باب المندب اور بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کے باعث عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات کے دوران تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کئی دہائیوں پر محیط اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی کے ثمرات حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں متعدد عالمی شپنگ کمپنیاں متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں، وہیں چینی تجارتی جہاز نسبتاً کم رکاوٹوں کے ساتھ بحیرۂ احمر سے گزر رہے ہیں۔ چین کا جبوتی میں قائم فوجی اڈہ، جو باب المندب کے قریب واقع ہے، سمندری سلامتی اور لاجسٹک معاونت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چینی جہازوں پر کسی بڑے حملے کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف تجزیے اور آراء موجود ہیں۔




