شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق چین میں کھیلوں سے وابستہ صارفین کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ اب طلب صرف اسپورٹس لباس اور آلات تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹریننگ، کھیلوں کے مقابلوں، اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے، فٹنس سروسز اور کمیونٹی سرگرمیوں تک پھیل چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان چین کی اسپورٹس انڈسٹری کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی منڈیوں میں شامل کر رہا ہے۔ سرکاری اہداف کے مطابق چین اپنی اسپورٹس انڈسٹری کی مالیت کو آئندہ برسوں میں کھربوں یوان تک پہنچانے کا خواہاں ہے، جس میں نجی سرمایہ کاری، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چین کی سپورٹس معیشت میں تیزی، اربوں ڈالر کی نئی مارکیٹ تشکیل
شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق چین میں کھیلوں سے وابستہ صارفین کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ اب طلب صرف اسپورٹس لباس اور آلات تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹریننگ، کھیلوں کے




