وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں میں گرفتار کیے گئے 671 غیر ملکی شہریوں کو اپنی سیاہ فہرست میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں وطن واپسی کے بعد دوبارہ داخلے سے روکا جائے گا۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کہا ہے کہ وہ کال سینٹر چھاپوں کے دوران گرفتار کیے گئے 671 غیر ملکی افراد کو پاکستان کی سیاہ فہرست میں شامل کرے گی تاکہ ان کے ملک سے واپسی کے بعد دوبارہ داخلے کو روکا جا سکے۔ حکام کے مطابق گرفتار شدگان پر فراڈ، بلیک میل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر غیر اخلاقی مواد کی تقسیم جیسے الزامات ہیں۔
ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کی سرگرمیوں کی تفتیش میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کیا مقامی افراد یا گروپ ان سرگرمیوں کو سہولت فراہم کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں مقامی روابط، کاروباری انتظامات، مالی لین دین اور دیگر ممکنہ شراکت داریوں کی تفصیلی چھان بین کی جا رہی ہے۔
حکام نے وزارتِ خارجہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو اپنے شہریوں کے خلاف درج شدہ مبینہ جرائم اور مقدمات سے آگاہ کرے، تاکہ بین الاقوامی رابطے اور قانونی کارروائی میں تعاون ممکن بنایا جا سکے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر آن لائن فراڈ، بلیک میل اور غیر قانونی مواد کی تقسیم سے منسلک نیٹ ورکس کا تعاقب کررہی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور جیسے جیسے مزید شواہد حاصل ہوتے ہیں، غیر ملکی شہریوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف اضافی کارروائیاں متوقع ہیں۔
یہ فیصلہ ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران آیا ہے جس کا مقصد غیرقانونی کال سینٹرز، سائبر فراڈ اور دیگر آن لائن جرائم کا خاتمہ ہے۔ ایف آئی اے کے تفتیشی ذرائع نے کہا ہے کہ گرفتار شدگان کے خلاف شواہد اور مالی ریکارڈ کو بھی جانچا جا رہا ہے تاکہ جرم میں ملوث نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی پیش رفت کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں ہوسکتی ہیں، اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے متاثرہ ممالک کے ساتھ اشتراک جاری رہے گا۔




