وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی (ای ایس ایف) کے بارے میں مثبت فیصلہ اگلے ماہ ستمبر تک متوقع ہے، جس سے ملک کو بین الاقوامی مارکیٹ سے طویل مدتی قرض حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی (ای ایس ایف) کوئی روایتی قرضہ نہیں بلکہ ایک بیک اسٹاپ ارینجمنٹ ہے جس کا مقصد پاکستان کی کرنسی کو مستحکم کرنا اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
وزیر نے کہا کہ اس سہولت کے ملنے کے بعد حکومت عالمی مارکیٹ سے 5، 7 اور 10 سالہ مدت کے طویل مدتی قرضے حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب باہمی طور پر لیے جانے والے مختصر مدت کے قرضوں سے خروج کر کے طویل مدتی فنانسنگ چاہتی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ کی اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد اس سلسلے میں گفت و شنید جاری ہے۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن کے دورے کے دوران بین الاقوامی ذرائع نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ای ایس ایف کی درخواست کی ہے، تاہم حکومت نے اس وقت اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی تھی۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ای ایس ایف زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی مالیاتی پوزیشن کو سپورٹ کرنے کے لیے بیک اسٹاپ کا کام کرتی ہے اور اس کے باعث بیرونی فنانسنگ اور ری فنانسنگ کے دباؤ میں کمی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قرض دینے والوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور رسک پریمیم کم ہونے سے فنانسنگ کی مجموعی لاگت پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
معاشی مبصر شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ مختصر مدت کے رول اوور قرضے ہیں اور ملک کی مجموعی فنانسنگ ضرورت 22 سے 23 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اس قدر مضبوط نہیں کہ بغیر کسی بیرونی ضمانت کے طویل مدتی قرضے حاصل کیے جا سکیں۔
سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ارجنٹینا جیسی مثالیں موجود ہیں جہاں امریکی بیک اسٹاپ کے ساتھ اصلاحات بھی کی گئیں؛ لہٰذا پاکستان کو بھی ممکنہ اصلاحات پر غور کرنا پڑے گا کیونکہ حکومتی اخراجات اور بیوروکریسی کے خرچ بڑھ چکے ہیں۔
خرم شہزاد نے یہ بھی بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں حد تک کم ہوا ہے، جب کہ روپے کی قدر دو سال سے نسبتاً مستحکم رہی ہے۔ امکان ہے کہ ستمبر تک امریکی فیصلہ آنے کے بعد ہی اس سہولت کے عملی اثرات کا تعین ہوگا۔




