افغانستان کی سرحد پر روسی دفاعی حصار تیار؛ داعش خراسان کے خطرے کے نام پر تاجکستان کو اسلحہ
ماسکو/دوشنبہ،(ویب ڈیسک) یکم نومبر 2026 — افغانستان سے ملحقہ سرحد پر سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر روس اور اس کے اتحادی تاجکستان کو اسلحہ اور جدید فوجی سازوسامان فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کے سیکریٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف کے مطابق روس، قازقستان، کرغزستان اور بیلاروس سمیت رکن ممالک کی جانب سے پہلی ترسیلات 2026 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ پروگرام 2029 تک جاری رہے گا۔
اصل خطرہ داعش خراسان: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے 16 اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ داعش خراسان (آئی ایس کے پی) افغانستان کو وسطی ایشیا اور روس تک دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے ملحقہ افغان سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے موجود ہیں۔ یہ روسی انٹیلی جنس پر مبنی دعویٰ ہے؛ اسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ تمام مقامات کی فہرست نہیں سمجھنا چاہیے۔
سرحدی دفاع کا اصل منصوبہ: افغانستان اور تاجکستان کے درمیان تقریباً 1,300 سے 1,400 کلومیٹر طویل سرحد زیادہ تر دریائے پنج کے ساتھ واقع ہے۔ دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ، دریا کے راستے آمدورفت اور محدود نگرانی اسے پیچیدہ سکیورٹی چیلنج بناتے ہیں۔ پانچ سالہ (سی ایس ٹی او) پروگرام میں سرحدی نگرانی، بنیادی ڈھانچے اور تاجک سرحدی فورسز کی صلاحیت بڑھانے کا ہدف ہے۔ فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں اور آلات کی مکمل تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ منصوبہ صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ وسطی ایشیا میں روسی دفاعی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ جدید نگرانی، محفوظ مواصلاتی نظام، سرحدی نقل و حرکت اور انٹیلی جنس کا تبادلہ مؤثر دفاع کے بنیادی عناصر ہوں گے۔ یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق داعش خراسان کے نیٹ ورک افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں منتشر ہیں، اس لیے خطرہ صرف روایتی سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں۔ دوسری جانب طالبان حکومت ان خدشات کو مسترد کرتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں تاجکستان کی عسکری تیاری پورے خطے کی سکیورٹی سمت متعین کر سکتی ہے۔




