کم جونگ اور اُن کے ہیکرز پر عالمی مالیاتی نظام کو نشانہ بنانے کا الزام
پیانگ یانگ/واشنگٹن، (ویب ڈیسک) یکم نومبر 2026 — شمالی کوریا نے روایتی عسکری طاقت کے ساتھ سائبر حملوں کو بھی اپنی عالمی حکمتِ عملی کا اہم ہتھیار بنا لیا ہے۔ ہالی ووڈ کے فلمی اسٹوڈیوز، ایشیائی بینکوں اور عالمی کرپٹو مارکیٹ کو نشانہ بنانے کے بعد اب اس کا نام تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل مالیاتی حملوں میں سامنے آیا ہے۔ امریکی ایف بی آئی نے 6.3 ارب ڈالر کے بائننس سائبر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کے سرکاری حمایت یافتہ ہیکنگ یونٹ(تاجر غدار) کو قرار دیا ہے، جسے بدنام زمانہ (لازروس گروپ) نیٹ ورک سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اس کی بنیاد محض ہیکرز کی مہارت نہیں بلکہ ریاستی سطح پر سائبر تربیت، انٹیلی جنس اداروں کی سرپرستی اور عالمی پابندیوں سے بچنے کی حکمتِ عملی ہے۔ شمالی کوریا کا انٹیلی جنس ادارہ جنرل بیورو برائے جاسوسی(آر جی بی) سائبر کارروائیوں کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ 2014 میں سونی پکچرز پر حملہ، 2016 میں بنگلہ دیش بینک سے 81 ملین ڈالر کی چوری اور 2017 میں (وانا کرائی) رینسم ویئر حملہ اس صلاحیت کے نمایاں واقعات ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ یا داخلی نظام تک رسائی حاصل کرکے غیر مجاز ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں۔ ہیکرز نے مختلف بلاک چین نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے اثاثے منتقل کیے۔ بلاک چین پر لین دین کا عوامی ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود مختلف والٹس، کراس چین برج اور ایکسچینج استعمال کرکے رقم کا سراغ لگانا مشکل بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کرپٹو چوری شمالی کوریا کے لیے پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جسے اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کی مالی معاونت سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ بائننس نے چوری شدہ اثاثوں کی مالیت کا تقریباً 95 فیصد واپس حاصل یا پورا کرنے کی اطلاع دی ہے۔ مستقبل میں بینکوں، کرپٹو ایکسچینجز اور حساس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے اصل چیلنج صرف سائبر دفاع نہیں بلکہ اندرونی رسائی، ملازمین کی شناخت اور عالمی مالیاتی نگرانی بھی ہوگا۔




