08 اگست 2026 — All Sindh Private Schools and Colleges Association نے سندھ حکومت سے نئے طویل اسکولی اوقاتِ کار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے، اس تنظیم کے چیئرمین Haider Ali نے Sindh Education Minister Syed Sardar Ali Shah سے کہا کہ موجودہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر یہ شیڈول عملی طور پر نافذ کرنا مشکل ہے۔
کراچی — All Sindh Private Schools and Colleges Association نے سندھ حکومت کے حالیہ طویل کردہ اسکولی اوقاتِ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ نئے شیڈول کو موجودہ حالات میں نافذ کرنا دشوار ہے۔
تنظیم کے چیئرمین Haider Ali نے Sindh Education Minister Syed Sardar Ali Shah سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ اس شیڈول کا جائزہ لیں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک قابلِ عمل وقتِ کار جاری کریں۔
چیئرمین نے کہا کہ بلند درجۂ حرارت، لنچ اور نماز کے وقفے، مدرسوں کے اوقات، بڑے طلبہ کے گھریلو ذمے داریاں، طلبہ اور اساتذہ کے آمدورفت کا وقت اور ثانیہ شفٹ شیڈولز کے سبب لمبے تعلیمی اوقات کا نفاذ مشکل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اسکول طویل عرصے تک کھلے رہ سکتے ہیں کیونکہ وہاں ایسے اداروں میں سہولیات اور بندوبست موجود ہوتے ہیں جو مقامی اسکولوں میں عام نہیں ہیں۔
تنظیم نے زور دیا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے اوقاتِ کار یکساں ہونے چاہئیں، تاہم موجودہ اعلامیہ عملی طور پر لاگو کرنا مشکل ہے اور ممکنہ طور پر مطلوبہ نتائج نہیں دے گا۔ Haider Ali اور دیگر سینئر عہدیداروں نے حکومتِ سندھ اور Education Department سے کہا کہ وہ فوراً تمام متعلقہ عوامل کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور مقامی حالات کے مطابق ایک نیا ٹائم ٹیبل جاری کریں۔
اسی دوران، ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کے حالیہ اقدامات اور تعلیم کے وزیر کے اسکولوں پر توجہ کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے ایک مثال قرار دیا۔ Haider Ali نے کہا کہ Sardar Ali Shah صوبے کے سماجی اور عملی چیلنجز کو سمجھتے ہیں۔
یہ مطالبات ProPakistani کی رپورٹ میں 08 اگست 2026 کو سامنے آئے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ نظرِ ثانی شدہ شیڈول ایسے حقائق کو مدِنظر رکھے جن سے والدین، اساتذہ اور اسکول ایڈمنسٹریٹرز کی مشکلات کم ہوں۔




