ایرانی خطرے کے باعث ٹرمپ کو کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنا پڑا، امریکی رپورٹس

امریکی میڈیا کے مطابق گذشتہ ماہ انقرہ میں صدر ٹرمپ کو ایران کی مبینہ خطرے کی اطلاع پر خفیہ طور پر کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے C-32A فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، جبکہ ایئرفورس ون میں کئی افراد لاعلم رہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی وی آر ایف سے طیارے پر ممکنہ میزائل حملے کی قابلِ اعتبار اطلاع پر خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنا پڑا، اُنہیں انقرہ ایئر پورٹ پر کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے متبادل فوجی طیارے سی۔32(اے) تک پہنچایا گیا جبکہ ایئرفورس ون میں موجود صحافی اور بعض عملہ لاعلم رہے۔

واشنگٹن پوسٹ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد انقرہ سے روانگی کے موقع پر پہلے پبلک طور پر ایئرفورس ون میں سوار ہونے کا تاثر چھوڑا تاہم بعد ازاں اُنہیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی۔32(اے) میں منتقل کر دیا گیا۔

سی بی ایس نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اُنہیں ایران کی جانب سے طیارے پر میزائل حملے کے قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملی تھی جس کی وجہ سے یہ خفیہ منتقلی کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کرنے کی اِن اطلاعات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق ایئرفورس ون میں بقیہ صحافیوں اور بعض وائٹ ہاؤس عملے کے ارکان کو اِسی پرواز میں سوار رکھا گیا اور اُنہیں مبینہ طور پر اپنی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ عمومی منظر نامہ معمول کے مطابق نظر آئے۔ اخبارات کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی علیحدہ طور پر بیرونی سیڑھیوں کے ذریعے سی۔32(اے) میں سوار ہوئے تا کہ حفاظتی اقدام آشکار نہ ہو۔

آٹھ جولائی کو شائع ہونے والی ویڈیوز میں ٹرمپ کو انقرہ ہوائی اڈے پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا تاہم واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ بعد ازاں اُنہیں سی۔32(اے) میں منتقل کیا گیا جو بوئنگ 757 کا ترمیم شدہ ماڈل ہے اور عام طور پر امریکی نائب صدر کے زیرِاستعمال رہتا ہے۔

ٹرمپ برطانیہ پہنچے جس کے بعد وہاں سے دوبارہ روایتی ایئرفورس ون میں سوار ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ سی۔32(اے) سے اُنہیں دوبارہ بڑے ایئرفورس ون میں کس طرح منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں وہ قطر کی جانب سے فراہم کردہ نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔

ٹرمپ نے اِس دوران صحافیوں سے گفتگو میں ایران کی جانب سے لاحق خطرات کا ذکر کیا اور کہا کہ کیونکہ جن لوگوں سے ہمیں نبٹنا پڑتا ہے، اُن کی وجہ سے آپ غالباً ایک خطرناک پرواز کر رہے تھے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کی مبینہ فہرست میں ’نمبر ون ہدف‘ ہیں۔

وائٹ ہاؤس کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے رپورٹس کی براہِ راست تردید یا تصدیق نہیں کی تاہم پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ نیا ایئرفورس ون صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے اور موسمِ خزاں میں اِس میں اضافی اپ گریڈز بھی کیے جائیں گے۔

نیویارک ٹائمز اور سی بی ایس کی سابقہ رپورٹس میں نیا طیارہ اور سیکورٹی خدشات، اور پرانے طیاروں میں لیزر ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے درج ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے بعد میں خفیہ معلومات کی مبینہ لیک کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519