وزارتِ خزانہ کی تازہ ‘fiscal operations report’ کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 میں پیٹرولیم لیوی کے طور پر ریکارڈ Rs. 1.567 ٹریلین وصول کیے، جو بلند ترین ایندھن قیمتوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ وصولی FY25 کے Rs. 1.22 ٹریلین سے 29 فیصد زیادہ تھی اور ابتدائی ہدف Rs. 1.468 ٹریلین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اسلام آباد — وزارتِ خزانہ کی تازہ فِسکل آپریشنز رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے طور پر ریکارڈ Rs. 1.567 ٹریلین وصول کیے۔ ماخذ نے وصولیوں میں اضافے کی وجہ ریکارڈ بلند ایندھن قیمتیں قرار دی ہیں۔
یہ رقم مالی سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے Rs. 1.22 ٹریلین کے مقابلے میں 29 فیصد زائد ہے اور حکومت کے اصل ہدف Rs. 1.468 ٹریلین سے بھی اوپر رہی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسٹمز ڈیوٹی برائے پیٹرولیم مصنوعات اور Rs. 26 ارب کی کاربن لیوی کو شامل نہیں کرتے۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف اور زیادہ رکھا ہے؛ رپورٹ کے مطابق اگلے سال کے لیے ہدف Rs. 1.676 ٹریلین مقرر کیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر نئے کلائمٹ لیوی سے مزید Rs. 50 ارب اکٹھا کرنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دعوؤں کے باوجود کفایت شعاری اور تنظیمی اصلاحات کے بیچ سِویل ایڈمنسٹریشن کے اخراجات 16 فیصد بڑھ کر ریکارڈ Rs. 1.033 ٹریلین ہو گئے، جو پہلی بار Rs. 1 ٹریلین کی حد عبور کرنے کا اشارہ ہے۔ یہ رقم بجٹ اندازے Rs. 971 ارب سے زیادہ اور پچھلے سال Rs. 892 ارب کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
دفاعی اخراجات بھی بڑھے اور 18 فیصد اضافے کے ساتھ Rs. 2.588 ٹریلین ریکارڈ کیے گئے، جب کہ مالی سال 2024-25 میں یہ Rs. 2.194 ٹریلین تھے۔
فِسکل صورتِ حال کے لحاظ سے پاکستان کا مالیاتی خسارہ GDP کا 2.6 فیصد رہا، جو مالی سال 2003 کے بعد کم ترین سطح بتائی گئی ہے، اور بنیادی سرپلس (primary surplus) ریکارڈ 2.9 فیصد GDP تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے اعداد و شمار ملکی محصولات اور اخراجات کے رجحانات کی تصویر پیش کرتے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے ہدف اور نئے کلائمٹ لیوی کے اثرات معیشت پر کس حد تک پڑیں گے یہ آنے والے بجٹ اور نفاذ سے واضح ہو گا۔




