انڈیا کے مدھیہ پردیش کے ضلع پنا کے گاؤں سروکھا میں سات مزدوروں کو 17.96 قیراط کا ’جِیم کوالٹی‘ ہیرا ملا ہے جو اُنھیں دو سال قبل لیز پر حاصل کی گئی کان سے ملا۔ روی پٹیل نے کہا ہے کہ یہ ہیرا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا اور متوقع قیمت کم از کم 50 لاکھ بھارتی روپے ہے؛ فروخت کی رقم میں سے حکومت 12 فیصد رائلٹی لے گی جبکہ باقی رقم ساتوں مزدوروں میں برابر تقسیم کی جائے گی۔
پنا میں ہیروں کی کان کنی کے لیے مشہور علاقے میں یہ دریافت اس لحاظ سے غیرمعمولی ہے کہ اس کان کی لیز مزدوروں کے پاس تھی، اس لیے امکان ہے کہ انہیں براہِ راست مالی فائدہ ملے۔ روی پٹیل، جو پنا ڈائمنڈ آفس سے منسلک ہیں، نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملنے والا یہ ہیرا ’جِیم کوالٹی‘ کا ہے اور وزن 17.96 قیراط ہے۔
روی پٹیل نے کہا کہ یہ ہیرا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس میں ملک اور بیرونِ ملک سے خریدار حصہ لے سکیں گے۔ اُنھوں نے متوقع قیمت کم از کم 50 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً ایک کروڑ 45 لاکھ پاکستانی روپے) قرار دی۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی رپورٹ کے مطابق یہ کان پنا کے گاؤں سروکھا میں ہے اور اس کی لیز اکھیلیش پال اور اُن کے چھ ساتھیوں نے دو سال قبل معمولی رقم کے عوض حاصل کی تھی۔ اکھیلیش پال نے بتایا کہ کان تقریباً ایک سال سے بند تھی اور حال ہی میں دوبارہ کھولی گئی تھی۔ اُن کے بقول، ’ہم تقریباً دو سال تک وہاں کان کنی کرتے رہے، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی، اسی لیے ہم نے پھر ایک سال کے لیے کان بند کر دی تھی۔ بعد ازاں ہم نے اس کے بالکل ساتھ ایک نئی کان پر کام شروع کیا۔‘
اکھیلیش نے مزید کہا کہ پیر کے روز شدید بارشوں کے بعد جب وہ کان کا معائنہ کرنے گئے تو انہیں بالکل زمین کی اوپری سطح پر یہ قیمتی پتھر نظر آیا۔
ماہرین اور مقامی رپورٹس کے مطابق پنا علاقے میں ہیروں کی دریافت معمول کی بات ہے مگر یہ ضلع کم ترقی یافتہ ہے جہاں غربت، پینے کے پانی کی قلت اور بے روزگاری عام ہیں، اور اکثر مقامی افراد روزگار کے محدود مواقع کی وجہ سے ہیروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
عام طور پر کان کنی سے وابستہ مزدور یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور ملنے والے ہیرے کی آمدنی لیز ہولڈر کو جاتی ہے، تاہم اس واقعے میں چونکہ لیز مزدوروں کے پاس تھی، اس لیے توقع ہے کہ وہ براہِ راست فائدہ اٹھائیں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ساتوں میں سے تین مزدوروں نے کہا کہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے ابھی تک شادی نہیں کر سکے تھے اور نیلامی سے حاصل رقم اُن کے شادی کے خواب پورے کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔




